Friday, 17 February, 2006, 03:38 GMT 08:38 PST
فلسطینی شدت پسند تنظیم حماس نے اسماعیل ہنیہ کو فلسطینی انتظامیہ میں وزیر اعظم کے عہدے کے لیے اپنا امیدوار نامزد کیا ہے۔
غزہ سے تعلق رکھنے والے اسماعیل ہنیہ گزشتہ ماہ ہونے والے انتخابات میں حماس کے امیدواروں کے قائد تھے۔
حماس نے اسماعیل ہنیہ کو وزیر اعظم کے عہدے کے لیے نامزد کرنے کے بارے میں کوئی باقاعدہ اعلان نہیں کیا۔
اسرائیل کا کہنا ہے کہ وہ اس وقت تک حماس کی قیادت میں بننے والی حکومت سے معاملات نہیں کرے گا جب تک وہ تشدد کو ترک کر کے اسرائیل کو تسلیم نہیں کر لیتی۔
مسٹر ہنیہ ایک عملی سوچ رکھنے والے لیڈر ہیں اور حماس کے زیادہ قائدین سے بڑھ کر اسرائیل سے بات چیت کے حامی ہیں۔
رملہ میں حماس سے تعلق رکھنے والے ارکان پارلیمنٹ کے ایک اجلاس کے بعد تنظیم کے ایک اعلیٰ اہلکار نے برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا کہ تنظیم نے وزیر اعظم کے عہدے کے لیے اسماعیل ہنیہ کو امیدوار نامزد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
حماس کے اہلکار کے مطابق نامزدگی کا باقاعدہ اعلان سنیچر کو فلسطینی قانون ساز کونسل کے اجلاس کے بعد کیا جائے گا۔
اسماعیل ہنیہ نے حماس میں تنظیم کے روحانی قائد شیخ احمد یاسین کے ایک قریبی رفیق کی حیثیت سے نمایاں مقام حاصل کیا۔
سن 2004 میں شیخ احمد یاسین اور عبدالعزیز رنتیسی کی ہلاکت کے بعد منتخب کی جانے والی احتماعی قیادت میں اسماعیل ہنیہ بھی شامل تھے۔
فلسطینی شدت پسند تنظیم حماس نے اعلیٰ پارلیمانی عہدوں کے لیے اپنے امیدواروں کا اعلان بدھ کو کیا تھا۔
غربِ اردن سے تعلق رکھنے والے یونیورسٹی کے پروفیسر عزیر الدیویک اور غزہ کے احمد بہار بالترتیب سپیکر اور ڈپٹی سیپیکر کے عہدوں کے لیے حماس کا امیدوار نامزد کیا گیا تھا۔
اعلان میں کہا گیا تھا کہ غزہ میں حماس کے رہنما محمود ظاہر ایوان میں حماس کی پارلیمانی پارٹی کے سربراہ ہوں گے۔