Thursday, 16 February, 2006, 01:18 GMT 06:18 PST
برطانوی پارلیمان کے ایوان زیریں دارالعوام کے ارکان نے وزیر اعظم ٹونی بلیئر کی جانب سے دہشتگردی روکنے کے متنازعہ قانون کی حمایت کردی ہے۔
گزشتہ ماہ دارالامراء نے اس مجوزہ بل کے خلاف رائے دہی کی تھی تاہم اب 277 کے مقابلے میں 315 ووٹ سے اس قانون کو دارالعوام نے منظور کرلیا ہے۔
بلیئر کا کہنا ہے کہ بل کے لیے حمایت ’طاقت کا اشارہ‘ ہے۔ اس نئے قانون کے تحت ایسے پلے کارڈز اٹھانا غیر قانونی قرار دے دیا جائے گا جن میں لندن پر بم حملے کرنے والوں کے لیے حمایتی جملے درج ہوں گے۔
تاہم لبرل ڈیموکریٹس اور ٹوریز اس قانون کے خلاف ہیں۔ سترہ لیبر ارکان نے بل کے خلاف ووٹ دیا جبکہ کچھ نے رائے دہی سے گریز کیا۔
دہشتگردی سے متعلق قانون لندن میں جولائی کے بم دھماکوں کے بعد متعارف کروایا گیا تھا۔
اس کی ایک شق یہ بھی ہے کہ پولیس مقدمہ قائم کیے بغیر ملزمان کو نوے دن تک اپنی تحویل میں رکھ سکتی ہے۔
ارکان پارلیمان کا یہ بھی کہنا تھا کہ پولیس کو ویب سائٹس سے دہشتگردی سے متعلق مواد ہٹانے کے لیے جج سے اجازت نامے کی ضرورت نہیں ہونی چاہئے۔
رائے دہی پر تبصرہ کرتے ہوئے ٹونی بلیئر نے کہا کہ پارلیمان چاہتی ہے کہ نہ صرف ان افراد سے نمٹا جائے جو براہ راست دہشتگردی میں ملوث ہیں بلکہ ان سے بھی جو ایسی کارروائیوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔
ہوم سیکرٹری چارلز کلارک نے کہا کہ ’یہ قانون اس لیے بھی ضروری تھا تاکہ ان تنظیموں کے خلاف کارروائی کی جائے جو نوجوانوں کے لیے ایسا ماحول پیدا کرتی ہیں جس میں وہ سمجھتے ہیں کہ خودکش بمباری ایک مقدس اور نیک عمل ہے‘۔