Wednesday, 15 February, 2006, 07:46 GMT 12:46 PST
افغانستان میں برطانوی فوجیوں کی تعداد میں اضافے کے سلسلے میں رائل مرینز کے ایک سو پچاس کمانڈوز پر مشتمل فوجی دستہ بدھ کو قندھار روانہ ہو رہا ہے۔
ڈیون کے فوجی اڈے کے ان بیالیس کمانڈوز کی منزل افغان شہر قندھار ہے جہاں سے وہ آگے ہلمند جائیں گے۔ ہلمند کا علاقہ افیون کی پیدوار اور طالبان سرگرمیوں کا گڑھ بنا ہوا ہے۔
برطانیہ کی وزارت دفاع نےگزشتہ ماہ اعلان کیا تھا کہ تین ہزار تین سو مزید فوجی افغانستان کے جنوبی حصے میں بھیجے جائیں گے۔
ان فوجیوں کا اصل کام بہ نسبت دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں کے اس علاقے میں تعمیر نو کے کاموں میں حصہ لینا ہے۔
بی بی سی کے دفاعی امور کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ طالبان نے نیٹو فورسز کے خلاف خودکش بم حملوں کا اعلان کیا ہے۔
برطانوی فوجی دستوں کی اس علاقے میں تعیناتی نیٹو کے اس علاقے میں فوج کی تعداد میں اضافے کے سلسلے کا پہلا مرحلہ ہے۔ نیٹو فوج اس علاقے میں طالبان کے خلاف برسرپیکار امریکی فوج کی جگہ لےگی۔
برطانوی فوجی حکام کا کہنا ہے کہ برطانوی فوجیوں کی تعداد میں اضافے سے شدت پسندوں کی جانب سے ممکن ہے کہ حملے بڑھ جائیں۔
بیالیس کمانڈو دستے کے کمانڈنگ آفیسر لیفٹینٹ کرنل گیڈ سلزانو کا کہنا ہے کہ ان فوجیوں کی تعیناتی سے اس علاقے میں فوجیوں کو قوت حاصل ہوگی اور اس کے ساتھ وہاں تعمیر نو کا کام کرنے والے انجینئروں کو بھی بہتر تحفظ ملےگا۔
ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ وہاں کی صورت حال پیچیدہ معلوم ہوتی ہے تاہم یہ فوجی اس صورت حال کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہیں۔
اس کے ساتھ ہی برطانوی فوج بنیادی مقصد وہاں موجود افغان فورسز کو سکیورٹی فراہم کرنا ہے تاکہ ہلمند میں کی جانے والی افیون کی کاشت اور سمگلنگ کو روکا جاسکے۔
افغانستان میں تعینات نیٹو فورسز کا کنٹرول مئی میں برطانیہ کے ہاتھوں میں آجائے گا۔
سیکرٹری دفاع جان ریڈ کا کہنا ہے کہ افغانستان میں برطانوی فوج کی تعداد پانچ ہزار سات سو سے زیادہ نہیں ہوگی۔
اس وقت ملک میں نیٹو کے انٹرنیشنل سکیورٹی فورسز کے نو ہزار دوسو فوجی سرگرم عمل ہیں اور توقع ہے کہ یہ تعداد بڑھ کر پندرہ ہزار تک ہو جائے گی۔