Monday, 13 February, 2006, 15:54 GMT 20:54 PST
نیپال کے اہم ماؤ نواز باغی رہنما نے کہا ہے کہ وہ نیپال کے بادشاہ کے لیے مستقبل میں دو ہی راستے تصور کر سکتے ہیں، ملک بدری یا پھر ان پر مقدمہ۔
نیپالی بادشاہ کے مستقبل کے بارے میں بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان کے خلاف مقدمہ عوامی عدالت میں چلایا جا سکتا ہے اور اس کا ممکنہ نتیجہ سزائے موت بھی ہو سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بادشاہ نے پچھلے سال ملک میں اقتدار چھیننے کے بعد اب مفاہمت کی بہت کم گنجائش چھوڑی ہے۔
تاہم باغی رہنما نے یہ بھی کہا کہ اگر عوام بادشاہت کو قائم رکھنا چاہتے ہیں تو یہ بھی ممکن ہے۔
ماؤ نواز باغی رہنما چاہتے ہیں کہ نیپال میں ایک منتخب اسمبلی آئے جو پھر ملک کے لیئے ایک آئین تیار کرے۔
پرچندا کا کہنا ہے کہ انتخابات کے ذریعے عوام جو راستہ اختیار کریں وہ ان کو قبول ہوگا۔
یہ پرچندا کے ساتھ پہلا رو برو انٹرویو ہے۔ وہ سیاسی طور پر پچھلے پچیس سال سے زیر زمین ہیں۔
باغی رہنما پرچندا کا کہنا تھا کہ انہیں افسوس ہے کہ نیپال میں پچھلے دس برس سے چلنے والی اس لڑائی میں تیرہ ہزار سے زیادہ لوگ ہلاک ہوئے ہیں۔ تاہم انہوں نے کہا کہ مخبروں کے خلاف تشدد کا استعمال بالکل جائز ہے۔
جب پرچندا سے پوچھا گیا کہ کیا ماؤ نواز باغی دارالحکوت کاٹھمنڈو پر فوجی حملہ کر کے قابض ہو سکیں گے تو انہوں نے کہا کہ حکومت کو ملنے والی غیر ملکی امداد نے اس کو مشکل بنا دیا ہے اور اس سے نیپالی عوام کو بہت نقصان پہنچے گا۔
نیپال میں حزب اختلاف کی جماعتوں کے ایک گروہ کو پرچندا کی باتوں سے خاصی مایوسی ہوگی کیونکہ انہوں نے حال میں باغیوں کے ساتھ ایک سیاسی معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔
اس کے علاوہ بادشاہ کے لیے سزائے موت کی بات پر بھی نیپال میں منفی رد عمل ہو سکتا ہے کیونکہ نیپال میں موت کی سزا نہیں ہے۔