Sunday, 12 February, 2006, 14:48 GMT 19:48 PST
یمن کے ایک اخبار کے مطابق اس کے مدیر محمد الاسدی کو پیغمبر اسلام کے توہین آمیز کارٹون کے کچھ حصے شائع کرنے پر گرفتار کر لیا گیا ہے۔
چار روز قبل اخبار ’یمن آبزرور‘ کا لائسنس اس وقت معطل کر دیا گیا تھا جب اس میں اداریے کے ساتھ متنازعہ کارٹون کے کچھ مبہم حصے چھاپ کر اس بات پر زور دیا گیا تھا کہ آزادی صحافت اور ذمہ داری کے موضوع پر بحث کروائی جانی چاہیے۔
گرفتار ہونے والے مدیر کے وکیل کو حکام کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ گرفتاری ان کی حفاظت کے پیش نظر کی گئی ہے تاہم ان کی ضمانت کی درخواست مسترد کر دی گئی ہے۔
اس اخبار میں شائع ہونے والے کارٹون کو سیاہ رنگ کے ساتھ مبہم بنانے کی کوشش کی گئی تھی لیکن خیال ہے کہ یہ سیاہی ناکافی تھی اور اس کے نیچے کارٹون نظر آ رہا تھا۔
اخبار کی انٹرنیٹ پر اشاعت باقاعدہ طور پر بند نہیں کی گئی ہے اور اس وقت یہ اخبار انٹرنیٹ کے ذریعے شائع ہو رہا ہے۔ اخبار پر بابندی اور مدیر کی گرفتاری کا فیصلہ یمنی وزیر اعظم کے دفتر کی ہدایت پر کیا گیا۔
یمن کے دو اور اخباروں ’الرائے العام‘ اور ’الحریہ‘ کے لائسنس بھی کارٹون کی اشاعت کے باعث منسوخ کر دیے گئے۔ اطلاعات کے مطابق دیگر دو ہفت روزہ جرائد کے مدیران بھی اسی الزام کے تحت حراست میں ہیں اور ان پر مقدمات چلائے جائیں گے۔
ان جرائد کے لائسنس بھی منسوخ کر دیے گئے ہیں اور مقدمات میں جرم ثابت ہونے کی صورت میں انہیں توہین رسالت کے جرم میں پانچ سال تک سزا ہو سکتی ہے۔