Sunday, 12 February, 2006, 10:52 GMT 15:52 PST
برطانوی حکومت نے اس وڈیو کی تحقیقات کا حکم دے دیا ہے جس میں عراق میں تعینات برطانوی فوجیوں کو مقامی لڑکوں کے ساتھ بدسلوکی سے پیش آتے دکھایا گیا ہے۔
عراق میں فوج حکام نے برطانوی فوج کی جانب سے بدسلوکی اور وحشت انگیزی کے ایسے تمام واقعات کی مذمت کی ہے۔ اس کا کہناہے کہ اس واقعے میں فوجیوں کا ایک چھوٹا سا گروہ ملوث ہے۔
اس قبل لندن میں وزارت دفاع نے کہا تھا کہ وڈیو میں دکھائے جانے والے الزامات کافی سنگین ہیں اور ملٹری پولیس ان کی تحقیقات کرے گی۔
برطانوی ہفتہ وار اخبار ’دی نیوز آف دی ورلڈ‘ نے اس وڈیو سےحاصل تصاویر شائع کی ہیں اور اس کے مطابق یہ واقعہ دوہزار چار میں عراق کے جنوبی حصے میں پیش آیا۔
برطانوی ہفتہ وار نے ان شواہد کو ’خفیہ ہوم وڈیو‘ بتایا ہے جسے کسی فوجی نے مزہ لینے کے لیے بنایا تھا۔ اس وڈیو میں نظر نہ آنے والے کیمرہ مین کی ہنسی کی آواز سنائی دیتی ہے۔
بصرہ میں برطانوی فوج کے ترجمان کا کہنا ہے کہ اخبار کا دعویٰ عراق میں تعینات اسی ہزار فوجیوں کے ایک چھوٹے سے گروہ کے بارے میں ہے۔
اس وڈیو میں گلیوں میں بدمعاشی کرنے کے ایک واقعے کے بعد عراقیوں کو برطانوی فوجی گھسیٹ رہے ہیں اور لات سے ماررہے ہیں۔ ایک فوجی کو تو ایک ہلاک شدہ عراقی کو لات سے مارتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔
برطانیہ کے وزیر داخلہ اینڈی براہمین نے بی بی سی کو بتایا کہ تصاویر انتہائی افسوس ناک ہیں اور میں سمجھتا ہوں کہ وزارت دفاع کا اس واقعے کی فوری تفتیش کا فیصلہ بلکل درست ہے۔
اخبار کا دعوٰی ہے کہ اس وڈیو میں شامل فوجی برطانوی ہیں تاہم اس نے یہ نہیں بتایا کہ برطانوی فوج کا کون سا ریجمنٹ یا یونٹ اس واقعے میں ملوث ہے۔
ایک دوسرے واقعے میں گزشتہ سال برطانوی اخبار ڈیلی مِرر نے عراقیوں سے برطانوی فوجیوں کی بدسلوکی کے کچھ فوٹو شائع کیے تھے جو بعد میں جعلی ثابت ہوئے تھے۔