Thursday, 09 February, 2006, 15:15 GMT 20:15 PST
اسرائیل کی ڈومیسٹک سکیورٹی ایجنسی شن بیٹ کے سربراہ نے کہا ہے کہ عراق سے صدام حکومت کاخاتمہ اسرائیل کے لیے پچھتاوے کا سبب بن سکتا ہے۔
شن بیٹ کے سربراہ یوول دسکن نے کہا کہ اس وقت عراق میں انتشار کی کیفیت پر قابو پانے کے لیے کسی مضبوط قسم کی ڈکٹیٹر شپ کی ضرورت ہے۔
یوول دسکن ایلی کی یہودی آباد کاروں کی بستی میں فوجی تربیت پر جانے والے طالب علموں سے حظاب کر رہے تھے۔ ان کی تقریر خفیہ طریقے سے ریکارڈ کرکے اسرائیلی ٹی وی پر نشر کی گئی۔ وہ گزشتہ سال مئی میں شن بیٹ کے سربراہ بنے تھے۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیل کی سکیورٹی سروسز اور عدالتی نظام نے عربوں اور یہودی مشتبہ افراد کے ساتھ جداگانہ سلوک اختیار کیا۔
جب ان سے عراق میں بڑھتی ہوئی غیر مستحکم صورت حال کے بارے میں پوچھا گیا تو ان کا جواب تھا کہ اسرائیل کو دوہزار تین میں امریکی اتحادی فوجوں کے عراق پر حملے میں ساتھ دینے کے فیصلے پر پچھتاوہ ہوسکتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’جب آپ کسی ایسے نظام کو ختم کرتے ہیں جہاں کسی جابر حکمران کی حکومت ہو اور جو اپنے لوگوں کو طاقت کے ذریعے کنٹرول کرتا ہو تو اس نظام کے خاتمے کے بعد وہاں ایسا ہی انتشار پیدا ہو تا ہے‘۔
اسرائیلی سکیورٹی فورسز اور عدالتی نظام کی جانب سے یہودی اور غیر یہودی سےسلوک کا تقابلہ کرنے کے ایک سوال پر ان کا کہنا تھا کہ ’مجھےاس سارے عمل میں یہودی اور غیر یہودیوں کے ساتھ برابری کا سلوک نظر نہیں آتا اس وقت کہ جب دونوں نے ملتے جلتے جرم کیے ہوں‘۔
ان کا کہنا تھا کہ ان کے خیال میں گزشتہ سال غزہ سے اسرائیلی فوج کے انخلاء کا وزیراعظم ایرئیل شیرون کا فیصلہ درست نہیں تھا۔ ان کے مطابق ایرئیل شیرون نے اس فیصلے کے وقت اس بات کی یقین دہانی نہیں کی تھی کہ فلسطینی اتھارٹی اسرائیلی فوج کے جانے کے بعد وہاں سکیورٹی کے حوالے سے پیدا ہونے والے خلا کو پر کر سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ وہ سکیورٹی کے تناظر میں ان علاقوں کو فلسطینیوں کے حوالے کرنے کی مخالفت کرتے ہیں اس وقت تک جب تک کہ اس بات کا یقین نہ کر لیا جائے کہ وہاں انتظام سنبھالنے والے حکام قانون کی پاسداری کا حلف اٹھائیں گے۔
انہوں نے اسرائیلی جنگجوؤں پر بھی تنقید کی جنہوں نے غرب اردن سے مزید انخلاء کی مخالفت کرتے ہوئے تشدد کا راستہ اختیار کیا تھا۔