Thursday, 09 February, 2006, 16:09 GMT 21:09 PST
انٹرنیٹ کمپنی یاہو پر الزام لگایا گیا ہے کہ اس نے چین کی حکومت کو ایسی معلومات فراہم کیں ہیں جس کی بنیاد پرانٹرنیٹ پر لکھنے والے ایک اور صحافی کی گرفتاری عمل میں آئی ہے۔
ذرائع ابلاغ کے ایک ادارے ’ رپورٹرز وتھاؤٹ بارڈرز‘ نے دعوی کیا ہے کہ یاہو نے
چینی حکومت کو ایسا ڈیٹا جاری کیا جس نے لی زہی نامی صحافی کو گرفتار کروا دیا۔ لی اس سلسلے میں گرفتار ہونے والے دوسرے شخص ہیں۔
اس سے قبل دوہزار تین میں آن لائن پر لکھنے والے ایک صحافی کو آٹھ سال قید کی سزا دی گئی تھی۔
گزشتہ سال بھی یاہو کو بیجنگ کو ایسی معلومات فراہم کرنے کا مرتکب ٹھرایا گیا تھا کہ جس کی وجہ سے چین کے صوبہ ہونان میں بزنس نیوز سے وابستہ سینتیس سالہ شی تاؤ کو گرفتار کر کے دس سال کی سزا سنائی گئی۔ شی تاؤ کو کمپوٹر سے خفیہ معلومات افشا کرنے کے جرم میں سزا دی گئی۔
صحفیوں کی اس تنظیم نے یاہو سے کہا ہے کہ انٹر نیٹ پر لکھنے والے ان تمام صحافیوں کے نام بتائے کہ جن کی شاخت کے بارے میں وہ چین کے حکام کو بتا چکا ہے۔
یاہو کی ترجمان کاکہنا ہے کہ کمپنی نے قانون سے ہٹ کر کوئی کام نہیں کیا۔
چین میں حکومت نے انٹرنیٹ کے استعمال کے حوالے سے سخت قوانین نافذ کیے ہیں۔
چار بڑی امریکی کمپنیوں مائیکرو سافٹ، گوگل، یاہو اور سسکو پر چین کے سامنے انٹرنیٹ سینسر کرنے کا الزام لگایا جاتا ہے۔
گوگل کو بھی گزشتہ ماہ سخت تنقید کا سامنا رہا کیونکہ اس نے بیجنگ کی شرائط مان کر اپنی کچھ سائٹس بلاک کر دیں۔