Wednesday, 08 February, 2006, 20:06 GMT 01:06 PST
فرانسیسی صدر ژاک شیراک نے پیغمبرِ اسلام کے کارٹونوں اشاعتِ نو کو شدید اشتعال انگیز قرار دیتے ہوئے مذمت کی ہے۔ دریں اثناء کارٹونوں کی اشاعت کے خلاف احتجاج کا سلسلہ جاری ہے اور اب تک اس تنازعے میں بارہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
صدر شیراک کا بیان اس وقت آیا ہے جب فرانس میں ایک جریدے نے بھی ان کارٹونوں کو شائع کیا جن کے خلاف مسلمان احتجاج کر رہے ہیں۔ اب یہ کارٹوں فرانس میں ایک اور جریدے چارلی ہیبدو نے شائع کیے ہیں۔
صدر شیراک نے کہا ہے کہ ’کوئی بھی ایسے کسی بھی مواد سے گریز کیا جانا چاہیے جس سے لوگوں کے اعتقادات کو ٹھیس پہنچتی ہو‘۔
ادھر افغانستان میں کئی روز سے جاری مظاہروں میں مزید چار افراد ہلاک ہو گئے ہیں جس کے بعد ملک میں یورپی اخبارات میں پیغمبر اسلام کے متنازعہ خاکوں کی اشاعت کے خلاف احتجاج کے دوران ہلاک ہونے والوں کی تعداد بارہ ہو گئی ہے۔
اس واقعے میں بیس افراد زخمی بھی ہوئے ہیں جن میں پولیس والے بھی شامل ہیں۔
کابل سے بھی مظاہروں کی اطلاعات ملی ہیں لیکن ادھر کوئی گڑبڑ نہیں ہوئی۔
![]() | |
اس سے پہلے اقوامِ متحدہ، یورپی اتحاد اور او آئی سی نے مسلمانوں سے امن کی مشترکہ اپیل کی تھی۔
اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل کوفی عنان اور دیگر اداروں میں ان کے ہم منصب افراد نے کارٹونوں کو نفرت انگیز اور مسلمانوں کے لیے موجبِ آزار قرار دیا۔ تاہم انہوں نےان کارٹونوں سے پیدا ہونے والے پُر تشدد عالمی ردِ عمل پرخطرے سے بھی خبردار کیا۔
مسلم ممالک میں پُرتشدد ردِ عمل پر خطرے کا اظہار کرتے ہوئے تینوں اداروں نے مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ اس سے اسلام کے پُرامن تصور کو نقصان پہنچا ہے۔ تاہم انہوں نے یہ بھی کہا ہے اخبارات کی آزادی میں احتیاط اور ذمہ داری بھی شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ تین دن کے واقعات نے بات چیت کی اہمیت کو بہت زیادہ اجاگر کر دیا ہے۔