Wednesday, 08 February, 2006, 09:36 GMT 14:36 PST
افغانستان میں کئی روز سے جاری مظاہروں میں مزید چار افراد ہلاک ہو گئے ہیں جس کے بعد ملک میں یورپی اخبارات میں پیغمبر اسلام کے متنازعہ خاکوں کی اشاعت کے خلاف احتجاج کے دوران ہلاک ہونے والوں کی تعداد بارہ ہو گئی ہے۔
اس واقعے میں بیس افراد زخمی بھی ہوئے ہیں جن میں پولیس والے بھی شامل ہیں۔
کابل سے بھی مظاہروں کی اطلاعات ملی ہیں لیکن ادھر کوئی گڑبڑ نہیں ہوئی۔
![]() | |
اس سے پہلے اقوامِ متحدہ، یورپی اتحاد اور او آئی سی نے مسلمانوں سے امن کی مشترکہ اپیل کی تھی۔
اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل کوفی عنان اور دیگر اداروں میں ان کے ہم منصب افراد نے کارٹونوں کو نفرت انگیز اور مسلمانوں کے لیے موجبِ آزار قرار دیا۔ تاہم انہوں نےان کارٹونوں سے پیدا ہونے والے پُر تشدد عالمی ردِ عمل پرخطرے سے بھی خبردار کیا۔
مسلم ممالک میں پُرتشدد ردِ عمل پر خطرے کا اظہار کرتے ہوئے تینوں اداروں نے مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ اس سے اسلام کے پُرامن تصور کو نقصان پہنچا ہے۔ تاہم انہوں نے یہ بھی کہا ہے اخبارات کی آزادی میں احتیاط اور ذمہ داری بھی شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ تین دن کے واقعات نے بات چیت کی اہمیت کو بہت زیادہ اجاگر کر دیا ہے۔