Monday, 06 February, 2006, 13:39 GMT 18:39 PST
یورپ کے اخبارات میں پیغمبر اسلام کے بارے میں توہین آمیز کارٹون کی اشاعت کے خلاف افغانستان اور صومالیہ میں ہونے والے مظاہروں میں چھ افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔
افغانستان میں حکام کا کہنا ہے کہ مظاہرین بگرام میں واقع امریکی ائر بیس میں داخل ہوگئے جس پر پولیس کی فائرنگ سے دو افراد ہلاک ہو گئے۔
اس سے قبل ایک پولیس سٹیشن پر مظاہرین کے حملے کے بعد پولیس کے فائر کھول دینے سے تین افراد ہلاک ہوگئے تھے۔
اس سے قبل حکام کے مطابق لغمان کے مشرقی صوبے میں ایک مظاہرے میں دو افراد ہلاک ہلاک ہوئے تھے ۔
صومالیہ میں پولیس پرمظاہرین کےحملے کے بعد پولیس کی جوابی فائرنگ سے ایک چودہ سالہ لڑکا گولی لگنے سے ہلاک ہو گیا جبکہ کئی زخمی بھی ہوئے ہیں۔
غزہ سے بھارت اور انڈونیشیا سے ایران تک کارٹونوں کی دیگر اخباروں میں اشاعت نو پر احتجاج جاری ہے۔
افغان واقعے پر پولیس کا کہنا تھا کہ مظاہرین نے ان پر پتھراؤ شروع کر دیا تھا اور اسی لیے اسے گولی چلانی پڑی۔
حکام کا یہ بھی کہنا ہے کہ ہجوم میں موجود طالبان اور القاعدہ کے ارکان ان اموات کے ذمہ دار ہیں کیونکہ انہوں نے لوگوں کو اکسایا تھا۔
دارالحکومت کابل میں بھی تقریباً دو سو افراد نے ڈنمارک کے سفارتخانے کے باہر احتجاجی مظاہرہ کیا۔ قندھار اور مزار شریف میں بھی سینکڑوں افراد نے مظاہرے کیے۔
ان کارٹون کی اشاعت کے خلاف دنیا کے مختلف ممالک میں تقریباً ایک ہفتے سے احتجاج جاری ہے۔
اطلاعات کے مطابق افغانستان میں ہلاک ہونے والے یہ تین افراد اس احتجاجی مہم کی پہلی ہلاکتیں ہیں۔
افغانستان اور صومالیہ کے علاوہ ایران کےدارالحکومت تہران، انڈونیشیا، تھائی لینڈ، نیوزی لینڈ اور بھارت میں بھی احتجاجی مظاہرے ہوئے ہیں۔ بھارت میں پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسوگیس کے گولے پھینکے۔