Sunday, 05 February, 2006, 11:57 GMT 16:57 PST
اطلاعات کے مطابق اسرائیل کی کابینہ نے ٹیکسوں اور کسٹم ڈیوٹی سے ہونے والی آمدنی میں سے فلسطینی اتھارٹی کا حصہ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔
اس سے قبل اسرائیلی حکومت نے فلسطینی انتخابات میں حماس کی جیت کے بعد رقم کی فراہمی معطل کر نے کا فیصلہ کیا تھا۔
اسرائیل حماس کو ایک دہشت گرد تنظیم سمجھتا ہے۔ اسرائیلی وزیر زیو بوئم کا کہا ہے کہ حکومت نے ماہ جنوری کی بابت رقم کی ادائیگی کرنے کا فیصلہ کیا ہے جو تقریباً ساڑھے چار کروڑ ڈالر ہے کیونکہ حماس ابھی فلسطینی حکومت کا حصہ نہیں ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ حکومت میں تبدیلی کے بعد رقم کی ادائیگی بند ہونے کا امکان ہے۔ حماس کے رہنما حکومت سازی کے لیے مشاورت کے سلسلے میں قاہرہ جا رہے ہیں۔ غزہ میں موجود حماس کے رہنماؤں اور جلاوطن رہنماؤں کے درمیان بات چیت پیر کے روز سے شروع ہونے کا امکان ہے۔
ہفتے کے روز حماس کے رہنماؤں نے صدر محمود عباس سے ملاقات کی جس میں نئی پارلیمان کا اجلاس دو ہفتوں کے اندر بلانے پر اتفاق کیا گیا۔
مغربی ممالک کا کہنا ہے کہ حماس کو امداد کے حصول کے لیے اپنی تنظیم کو غیر تشدد پسند بنانا ہوگا اور اسرائیل کو تسلیم کرنا ہو گا۔
اسی دوران سینکڑوں فلسطینی باشندوں نے غزہ کی پٹی پر اسرائیلی فضائی حملے میں مرنے والے تین افراد کے جنازے میں شرکت کی۔ مرنے والوں کا تعلق الاقصیٰ برگیڈ سے تھا جس نے ان ہلاکتوں کا بدلہ لینے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔
فلسینی انتخابات کے بعد یہ اسرائیل کا پہلا فضائی حملہ تھا۔ حماس کے ایک رہنما اسمٰعیل حانیہ نے کہا ہے کہ یہ حملہ ایک جرم ہے اور فلسطینیوں کو اپنا دفاع کرنے کا حق حاصل ہے۔
اسرائیل کا کہنا ہے کہ اس نے یہ حملہ جمعہ کے روز غزہ کی جانب سے مبینہ طور ہونے والے راکٹ حملوں کے نتیجے میں کیا ہے جس میں کئی سویلین زخمی ہو گئے تھے۔