Sunday, 05 February, 2006, 11:35 GMT 16:35 PST
حماس کے رہنما قاہرہ میں جمع ہو رہے ہیں جہاں وہ جلاوطن رہنماؤں سے حکومت سازی پر مشورے کریں گے۔
اس اجلاس کے بعد حماس رہنما مسلمان ملکوں کے دارالحکومتوں کے دورے کریں گے اور فلسطین کی نئی انتظامیہ کے لیے فنڈز کی فراہمی کو کوششیں کریں گے۔
اس سے پہلے حماس قیادت اور فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس اس بات پر متفق ہو چکے ہیں کہ نئی حکومت کی تشکیل کی لیے فلسطینی پارلیمنٹ کا اجلاس 16 فروری کو بلایا جائے گا۔
انتخابات میں کامیابی کے بعد حماس پر مسلسل عالمی دباؤ ہے کہ وہ حکومت سازی سے پہلے اسرائیل کو تسلیم کرے، فلسطینی انتظامیہ کی جانب سے اس سے پہلے کیے جانے والے تمام معاہدوں کی پاسداری کا وعدہ کرے اور خود کو غیر مسلح کرے۔
حماس نے اب تک ان میں سے کسی بھی بات قبول نہیں کیا تاہم اس نے اس بات کا عندیہ دیا ہے کہ وہ اپنے مسلح حصے کو فلسطینی فوج میں ضم کر سکتا ہے۔
حماس قیادت نے مصر میں اجلاس کا اعلان محمود عباس سے ملاقات کے بعد کیا ہے۔ محمود عباس کی انتخابات میں فتح گروپ کی شکست کے بعد حماس قیادت سے یہ پہلی ملاقات تھی۔
اس ملاقات کے بعد حماس کے ترجمان نے اخبار نویسوں سے بات کرتے بتایا کہ فسلطینی اتھارٹی کے صدر 16 فروری کو پارلیمنٹ کا اجلاس بلانے پر آمادہ ہو چکے ہیں۔
صدر عباس نے بھی کہا ہے کہ وہ پارلیمنٹ کا اجلاس بلا رہے ہیں اور اس اجلاس میں وہ ایک فریق کو حکومت سازی کی دعوت دیں گے۔ انہوں نے حماس کا نام نہیں لیا لیکن ایک گروپ سے ان کی مراد غالباً حماس ہی تھا۔