Sunday, 05 February, 2006, 17:44 GMT 22:44 PST
بنگلہ دیشی حزب اختلاف کی بڑی جماعت عوامی لیگ کی رہنما شیخ حسینہ واجد نے ایک سال سے جاری پارلیمنٹ کا بائیکاٹ ختم کرنے کا اعلان کیا ہے۔
تاہم انہوں نے ایک ریلی سے خطاب کے دوران کہا ہے کہ وہ پارلیمنٹ میں شفاف انتخابات کے انعقاد کے متعلق چند تجاویز پیش کرنے کے لیے شرکت کریں گی۔
بنگلہ دیش میں عام انتخابات اکتوبر میں متوقع ہیں۔ حزب اختلاف نے حکومت پر انتخابی فہرستوں میں دھاندلی کا الزام لگایا ہے لیکن وزیر اعظم خالدہ ضیا نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔
شیخ حسینہ نے اتوار کو دارالحکومت ڈھاکہ میں ایک پر ہجوم ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حزب اختلاف حکومت کے خلاف مظاہرے جاری رکھے گی۔
حزب اختلاف نے وزیراعظم خالدہ ضیا پر بدعنوانی اور نااہلی کے الزامات عائد کیے ہیں اور ان کا مطالبہ ہے کہ وہ اپنا عہدہ چھوڑ دیں۔
شیخ حسینہ کے اس اعلان کو بنگلہ دیش کی اختلافات سے بھر پور سیاست میں ایک اہم واقعہ سمجھا جا رہا ہے۔
عوامی لیگ اور اس کے سیاسی اتحادیوں نے پچھلے سال الیکشن کمیشن میں اصلاحات کے متعلق تجاویز دی تھیں۔ شیخ حسینہ کا کہنا ہے کہ اگلے انتخابات کو شفاف بنانے اور تمام جماعتوں کے لیے قابل قبول بنانے کے لیے اصلاحات بہت اہم ہیں۔
حکومت نے پہلے تو اصلاحات کے متعلق تجاویز پر گفتگو کرنے سے انکار کر دیا تھا تاہم بعد میں حکومت نے عوامی لیگ کی پارلیمنٹ میں شمولیت کی شرط پر اصلاحات کے متعلق بحث پر آمادگی ظاہر کی۔
حکومت کی جانب سے شیخ حسینہ کے حالیہ اعلان کا کوئی فوری ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔ ماضی میں خالدہ ضیا نے کہا تھا کہ وہ ان تجاویز میں سے چند کو قبول کر سکتی ہیں بشرطیہ کہ وہ سب کے لیے قابل قبول ہوں۔
پچھلے مہینے امریکی حکومت کے ایک سینیئر اہلکار نے بنگلہ دیش کی سیاسی جماعتوں کو مذاکرات کے ذریعے باہمی اختلافات میں کمی لانے کا مشورہ دیا تھا۔ امریکی نائب وزیر خارجہ کرسٹینا روکا نے بھی حزب اختلاف پر زور دیا کہ وہ پارلیمنٹ میں حصہ لے اور مثبت کردار ادا کرے۔
لیکن پارلیمنٹ میں واپسی کا اعلان کرتے ہوئے شیخ حسینہ نے یہ بھی واضع کیا کہ حزب اختلاف چار جماعتوں پر مشتمل مخلوط حکومت کے خلاف تحریک جاری رکھے گی۔
سابق وزیر اعظم نے اپنی جماعت کے کارکنوں کی بڑے پیمانے پر مبینہ گرفتاریوں کے خلاف پندرہ فروری کو ہڑتال کی بھی کال دی ہے۔ حکومت نے اس قسم کی گرفتاریوں کی تردید کی ہے اور کہا ہے کہ گرفتاریاں جرائم کے خلاف معمول کی کارروائی کا حصہ ہیں۔