Sunday, 05 February, 2006, 12:21 GMT 17:21 PST
جنوبی افغانستان میں چھ پولیس اہلکار اس وقت ہلاک ہو گئے جب ان کی گاڑی ایک بم دھماکے کا نشانہ بن گئی۔
یہ بم دھماکہ قندھار میں ہوا ہے اور اس میں کم سے کم چار پولیس اہلکار زخمی بھی بتائے جاتے ہیں۔
اس سے پہلے جمعہ کو طالبان اور افواج کے درمیان شدید لڑائی ہوئی ہے جس میں کم از کم 25 ہلاکتیں ہوئی ہیں۔
اب تک اگرچہ کسی نے اس دھماکے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے لیکن تاہم افغان حکام کا کہنا ہے کہ اس دھماکے میں طالبان ملوث ہیں۔
مقامی پولیس کے سربراہ محمد نبی نے ایسوسی ایٹڈ پریس سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’طالبان کو پتہ ہو گا کہ پولیس افسر آ رہے ہیں اس لیے انہیں حملے کا نشانہ بنانے کے لیے بارودی سرنگ لگا دی‘۔
انہوں نے بتایا ہے کہ زخمیوں کو قندھار کے ہسپتال میں داخل کر دیا گیا ہے اور سکیورٹی فورسز نے باغیوں کی تلاش شروع کر دی ہے۔
ہلمند میں جمعہ کو ہونے والی لڑائی میں گزشتہ دو سال کے دوران طالبان اور سرکاری افواج کے درمیان ہونے والی شدید ترین لڑائی بتائی جاتی ہے۔
اس لڑائی میں پانچ پولیس اہلکار اور بیس طالبان ہلاک بتائے جاتے ہیں لیکن طالبان کے ترجمان قاری محمد یوسف نے طالبان کی ہلاکتوں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ صرف دو ظالبان زخمی ہوئی ہیں۔