Thursday, 02 February, 2006, 04:32 GMT 09:32 PST
برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلیئر نے کہا ہے کہ مذہبی منافرت کے قوانین پر پارلیمان میں دگنی شکست کے باوجود بھی وہ اصلاحات کا پروگرام جاری رکھیں گے۔
بلیئر کے سوال پر ٹوری رہنما ڈیوڈ کیمرون کا کہنا تھا کہ اصلاحات کا پروگرام صرف اس صورت میں ممکن ہوسکتا ہے کہ اگر وہ صحیح ہو اور اسے ٹوری کی حمایت حاصل ہو۔
تاہم بلیئر کا کہنا تھا کہ سکول، مزدور اور پولیس سے متعلق اصلاحات پر انہیں حمایت حاصل ہوگی۔
منگل کے روز دوسری مرتبہ وزیر اعظم کو کامنز کی جانب سے بطور وزیر اعظم شکست کا سامنا ہوا ہے۔ ان کا دوسرا کمزور نقطہ دہشتگردی کے ملزمان کی عدالتی کارروائی کے بغیر حراست ثابت ہوا۔
ابھی بلیئر کو تعلیم اور شناختی کارڈ کے شعبوں میں مزید مخالفتوں کا سامنا ہوگا۔
بلیئر کا کہنا ہے کہ وہ اصلاحات کا عمل جاری رکھیں گے کیونکہ ان کے خیال میں اسی میں ملک کی بہتری ہے۔
بلیئر کے مذہبی منافرت سے متعلق قانون کے بل کے خلاف چند حلقوں نے متحد ہوکت مظاہرہ بھی کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس سے آزادی اظہار میں خلل آئے گا۔
.
نسلی منافرت سے متعلق موجودہ قانون میں سکھوں اور یہودیوں کو تحفظ حاصل ہے جبکہ نیا قانون عیسائیوں اور مسلمانوں کو بھی ان کے اعتقاد کی بنیاد پر تحفظ فراہم کرے گا۔
اس بل پر 282 ووٹ حکومت کے حق میں تھے جبکہ 283 اس کے مخالف۔