http://bbc.com.im/urdu/

Wednesday, 01 February, 2006, 04:18 GMT 09:18 PST

غزہ کے لوگوں کی حالت دگرگوں

اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ دو ہفتے قبل اسرائیل نے غزہ کی پٹی میں جو اہم چوکیاں بند کرنے کا حکم دیا تھا اسکے نتیجے میں علاقے میں ادویات اور طبی رسد میں شدید کمی ہو رہی ہے اور غزہ کے ڈیڑھ ملین مکینوں کی اقتصادی حالت دگر گوں ہو رہی ہے۔

ادھرحماس نے کہا ہے کہ وہ اسرائیل کے خلاف ’مزاحمت‘ کی پالیسی کو ترک نہیں کرے گا۔

یاد رہے کہ یورپی یونین، امریکہ، روس اور اقوام متحدہ نے کہا تھا کہ حماس مبینہ تشدد کا راستہ ترک کرے اور اسرائیل کو تسلیم کرے وگرنہ فلسطین کو ملنے والی عالمی امداد بند کر دی جائے۔

درایں اثنا روس پہلا ملک ہے جس نے حماس کی جیت کی وجہ سے فلسطینیوں کی امداد بند کرنے کی دھمکیوں کو بے بنیاد قرار دیا ہے ۔ اس کااظہار صدر پوتین نے گزشتہ روز سالانہ پریس کانفرنس میں کیا۔

اس سے پہلے حماس نے کہا تھا کہ کہ وہ اسرائیل کے خلاف ’مزاحمت‘ کی پالیسی کو ترک نہیں کرے گا۔

مشرق وسطیٰ میں امن کے قیام کے کے لیے ذمہ دار قرار پانے والے ان چاروں قوتوں نے کہا ہے کہ حماس کی طرف سے ان کی پیشکش مسترد ہونے کی صورت میں ایک ارب ڈالر کی امداد رک سکتی ہے۔

حماس کے رہنماؤں نے اس الٹی میٹم پر سخت تنقید کی ہے۔ حماس کے رہنما خالد مشعل نے برطانوی انگریزی روزنامے گارڈین میں لکھا ہے کہ ’حماس رشوت ستانی، دھونس اور بلیک میل قبول نہیں کرے گی‘۔

حماس کے ایک رہنما اسماعیل ہانیہ نے کہا ہے کہ اس ’غیرمنصفانہ‘ فیصلے سے فلسطینیوں کو نقصان پہنچے گا۔