Thursday, 02 February, 2006, 00:21 GMT 05:21 PST
یورپ کے کچھ اخبارات میں پیغمبرِ اسلام کے بارے میں متنازع کارٹونوں کی از سرِ نو اشاعت سے مسلم دنیا میں ردِ عمل بڑھتا جا رہا ہے اور مسلم ممالک نے اس کی شدید مذمت کی ہے۔
ادھر شدت پسندوں نے فلسطین میں ڈینمارک، ناروے اور فرانس کے شہریوں کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی ہے ۔مسلح فلسطینیوں نے جمعرات کو غزہ شہر میں یورپی اتحاد کے دفتر کو عارضی طور پر گھیرے میں لے لیا۔ ناروے نے غربِ اردن میں اپنے مشن کو بند کر دیا ہے۔
مذہبی رہنما نہ صرف یورپی مصنوعات کے بائیکاٹ اور کارٹونوں کی اشاعت کے خلاف احتجاجی مظاہرے کرنے کی حمایت کی ہے۔
مصر کے صدر حسنی مبارک نے کہا ہے کہ آزادیِ اظہار کی آڑ میں مذہب کی توہین نہیں کی جا سکتی۔ انہوں نے کہا کہ اگر صورتِ حال کو درست انداز سے قابو میں لانے کی کوشش نہ کی گئی تو انتہا پسند اس کا فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ انڈونیشیا میں وزراتِ خارجہ نے اسی قسم کا بیان دیا ہے۔
دریں اثناء دوسرے کئی ملکوں کے ساتھ فرانس کے اخبار فرانسوا سواغ میں پیغمبرِ اسلام کے کارٹون شائع کرنے والے اخبار کے ایڈیٹر کو برطرف کر دیا گیا ہے۔
اخبار فرانسوا سواغ کے ایڈیٹر کو اخبار کے مالک نے برطرف کیا ہے اور برطرفی کے فیصلے کے اعلان میں کہا گیا ہے کہ ’اس اقدام کا مقصد یہ دکھانا ہے کہ اخبار کے مالک لوگوں کے ذاتی اعتقادات اور مذہبی شخصیات کی دل سے عزت و تکریم کرتے ہیں‘۔
فرانس کے علاوہ اٹلی، جرمنی اور ہسپانیہ کے اخباروں نے بھی پیغمبرِ اسلام کے وہ کارٹون شائع کیے تھے جن پر مسلمان ممالک میں احتجاج کیا جا رہا ہے۔
کئی عرب ممالک نے ڈنمارک سے کارٹون شائع کرنے والوں کے لیے سزا کا مطالبہ کیا تھا۔ سعودی عرب اور شام نے متنازعہ خاکوں کی اشاعت کے بعد ڈنمارک سے اپنے سفیر واپس بلا لیے تھے۔
جن اخباروں میں یہ کارٹون شائع ہوئے ہیں ان میں پیرس سے شائع ہونے والا اخبار فرانسوا سواغ کے علاوہ جرمنی کا ڈائی ویلٹ، اٹلی کا لا سٹیمپا اور ہسپانیہ کا ایل پیریڈیکو شامل ہیں۔
مذکورہ یورپی ممالک کے اخباروں میں کارٹونوں کی اشاعت کا بنیادی مقصد ڈنمارک کے اخبار کے ساتھ اظہار یکجہتی قرار دیا گیا تھا۔
پیرس سے شائع ہونے والے اخبار فرانس سواغ کا کہنا تھا کہ کارٹونوں کی اشاعت کا مقصد یہ دکھانا ہے کہ ایک سیکولر معاشرے میں مذہبی کٹرپن کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔