Wednesday, 01 February, 2006, 05:46 GMT 10:46 PST
صدر جارج ڈبلیو بش نے اپنے سالانہ خطاب میں متنبہ کیا ہے کہ اگر بیرونی خطروں کا مقابلہ سر اٹھا کر نہ کیا گیا تو امریکہ ان خطروں اور زوال سے نہیں بچ سکتا۔
سلامتی کے مسائل صدر بش کی تقریر پر چھائے ہوئے تھے لیکن انہوں نہ آزادی کے دفاع کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ آزادی کی پیش رفت ہمارے دور کی سب سے اہم بات ہے۔
انہوں نے داخلی امور پر بھی کھل کر بات کی کیونکہ یہ ان کی ریپبلکن پارٹی میں ہونے والے انتخابات کا سال ہے۔ انہوں انسانی کلونگ پر پابندی کا ذکر کیا اور بہت زور دے کر کہا کہ امریکہ کو بیرونی تیل پر انحصار ختم کرنا ہو گا۔ خود ان کے اپنے الفاظ میں ’تیل کی لت‘ سے نجات حاصل کرنی ہو گی کیونکہ اس کے لیے ہمیں غیر محفوظ ذرائع پر انحصار کرنا پڑتا ہے۔
عراق، ایران اور حماس کا ذکر کرتے ہوئے صدر بش کا لہجہ سخت تھا۔ انہوں نے ان ممالک اور حماس کے بارے میں اپنی پالیسی کا اعادہ کیا۔
امریکی صدر نے کہا کہ عراق میں امریکہ کے لیے صرف ایک ہی راستہ ہے اور وہ جنگ کا راستہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم عراق میں اپنے اتحادیوں کو تنہا نہیں چھوڑ سکتے۔
ایران کا ذکر کرتے ہوئے کہ اس ملک میں ایک چھوٹے سے گروپ نے پورے ملک اور اس کے لوگوں کو یرغمال بنا رکھا ہے۔
ایران کے ایّمی پروگرام کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ساری دنیا پر یہ ذمہ داری عاید ہوتی ہے کہ وہ ایران کو کسی بھی قیمت پر ایٹمی ہتھیار حاصل نہ کرنے دے۔
حماس کے بارے میں انہوں نے کہا کہ وہ اسرائیل کو تسلیم کرے اور خود کو غیر مسلح کرے اس کے بعد ہی اس سے کوئی بات ہو سکتی ہے۔
امریکہ کے دوسرے داخلی مسائک کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے خاص طور پر ’سپائینگ سکینڈل‘ کا ذکر کیا اور کہا کہ ملک کو اس کی ضرورت ہے اور انہوں نے اسی لیے اس کی اجازت دی ہے۔ ان کا کہنا تھا ہمیں دہشت گردوں کےحملے روکنے کے لیے اس کی ضرورت ہے اور یہ پالیسی جاری رہے گی۔