Tuesday, 31 January, 2006, 09:14 GMT 14:14 PST
ایران نے روس، چین ، امریکہ اور یورپی یونین کے درمیان اس کے جوہری پروگرام کے مسئلہ کو سلامتی کونسل میں لے جانے کے بارے میں ہونے والی مفاہمت کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس اقدام کا کوئی قانونی جواز نہیں ہے۔
ایران نے کہا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے۔ لیکن یورپی ملکوں اور امریکہ کو خدشہ ہے کہ ایران جوہری پروگرام کو توانائی کے بجائے وسیع تباہی کے ہتھیار بنانے کے لیے استعمال کرنا چاہتا ہے۔
روس اور چین نے گزشتہ روز لندن میں ہونے والےایک اجلاس میں امریکہ اور یورپی یونین کے ملکوں کے ساتھ اس بات پر اتفاق کیا تھا کہ ایران کے جوہری پروگرام کے معاملے کو سلامتی کونسل میں اٹھایا جانا چاہیے۔
سلامتی کونسل کے پانچ مستقل ارکان کے اجلاس کے بعد برطانوی وزیرخارجہ جیک سٹرا نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بنیادی طاقتیں ایران کے ایٹمی پروگرام کا معاملہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں بھیجنے پر متفق ہو گئی ہیں۔
اگر آئی اے ای اے کا بورڈ ایران کے ایٹمی پروگرام کا معاملہ سلامتی کونسل کوبھیجنے پر متفق ہوگیا تو ایران پر اقتصادی پابندیاں بھی عائد کی جا سکتی ہیں۔
جیک سٹرا نے بتایا ہے کہ سلامتی کونسل مارچ میں آئی اے ای اے کی باقاعدہ رپورٹ آنے تک کوئی کارروائی نہیں کرے گی۔