Tuesday, 31 January, 2006, 16:53 GMT 21:53 PST
حماس نے کہا ہے کہ وہ اسرائیل کے خلاف ’مزاحمت‘ کی پالیسی کو ترک نہیں کرے گا۔
یورپی یونین، امریکہ، روس اور اقوام متحدہ نے پیر کو کہا تھا کہ وہ تشدد کا راستہ ترک کرے دے اور اسرائیل کو تسلیم کر لے بصورت دیگر فلسطین کو ملنے والی عالمی امداد بند کر دی جائے۔ مشرق وسطیٰ میں امن کے قیام کے کے لیے ذمہ دار قرار پانے والے ان چاروں قوتوں نے کہا ہے کہ حماس کی طرف سے ان کی پیشکش مسترد ہونے کی صورت میں ایک ارب ڈالر کی امداد رک سکتی ہے۔
حماس کے رہنماؤں نے اس الٹی میٹم پر سخت تنقید کی ہے۔ حماس کے رہنما خالد مشعل نے برطانوی انگریزی روزنامے گارڈین میں لکھا ہے کہ ’حماس رشوت ستانی، دھونس اور بلیک میل قبول نہیں کرے گی‘۔
حماس کے ایک رہنما اسماعیل ہانیہ نے کہا ہے کہ اس ’غیرمنصفانہ‘ فیصلے سے فلسطینیوں کو نقصان پہنچے گا۔
اسرائیل نے فلسطینی انتظامیہ کو واجب الادا ٹیکس معطل کرنے کا امکان ظاہر کیا ہے۔
اسرائیل نے کہا ہے کہ فلسطینی انتظامیہ کو ماہانہ ملنے والے رقم کی اگلی قسط جو پچاس ملین ڈالر بنتی ہے بدھ کو وجب الادا ہو جائے گی لیکن اس معاملہ پر اعلیٰ سطح پر نظر ثانی ہو رہی۔
خالد مشعل نے عرب ریاستوں سے فلسطینیوں کے لیے امداد میں اضافے کی اپیل کی اور کہا کہ فسلطینیوں کو ان ممالک سے امداد نہیں لینی چاہیے کیونکہ یہ ہر ڈالر اور یورو کے لیے ذلت آمیز شرائط رکھتے ہیں۔