Tuesday, 31 January, 2006, 04:23 GMT 09:23 PST
ڈنمارک کی اسلامی تنظیموں نے کہا ہے کہ پیغمبر اسلام کے توہین آمیز کارٹون چھاپنے کے مسئلہ کو زیادہ نہ اچھالا جائے اور اخبار کی معذرت کے بعد اس مسئلہ کو ختم کر دیا جائے۔
اسلامی تنظیموں کے مطابق وہ اخبار کی طرف سے شائع کردہ معذرت کے بعد مطمئن ہو گئے ہیں۔
ڈنمارک کی حکومت نے ان قابل اعتراض کارٹون کی اشاعت کے بعد ڈنمارک کے شہریوں کو ہدایت کی تھی کہ وہ سعودی عرب نہ جائیں کیونکہ مسلم ممالک میں کارٹون کی اشاعت پر شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔
اخبار میں شائع ہونے والے اس کارٹون میں ایک شخص کو دکھایا گیا جس نے اپنی پگڑی میں بم چھپا رکھا ہے۔ اس اخبار نے کارٹون کی اشاعت سے مسلمانوں کے جذبات مجروح ہونے پر معذرت کی ہے۔
اسلام کے مطابق حضرت محمد یا خدا یا انبیا کی تصاویر یا خاکے بنانا ممنوع ہے۔
اس کارٹون کی اشاعت کے نتیجے میں ڈنمارک کی مصنوعات کا بائیکاٹ اور ڈنمارک پر سفارتی پابندیوں کے علاوہ مسلمان شدت پسندوں سے خطرہ بھی پیدا ہو سکتا ہے۔
اخبار کے مدیر نے اردن کے خبر رساں ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کارٹونوں کی اشاعت سے ڈنمارک کے کسی قانون کی خلاف ورزی نہیں ہوتی لیکن اس سے مسلمانوں کی ناقابلِ تلافی دلآزاری ہوئی ہے اس لیے وہ اس پر معذرت خواہ ہیں۔
ڈنمارک کے وزیراعظم اینڈر فوگ نے کہا ہے کہ انہیں ایڈیٹر کے فیصلے پر انتہائی خوشی ہوئی ہے۔ انہوں نے معذرت کر کے ایک بنیادی قدم اٹھایا ہے۔ تاہم انہوں نے کہا ہے کہ وہ خود اس پر معذرت نہیں کریں گے کیونکہ یہ صحافت کی آزادی کا معاملہ ہے اور وہ اس کا دفاع کریں گے۔
ان کا کہنا ہے کہ ڈنمارک کی حکومت اخبار کی طرف سے معافی نہیں مانگے گی اور ہم نے اس بارے میں عرب ملکوں سے وضاحت کر دی ہے کہ اخبارات آزاد ہیں اور ان کی ادارت حکومت نہیں کرتی۔