Monday, 30 January, 2006, 09:26 GMT 14:26 PST
بلجیم میں ایرانی نمائندوں اور یورپی یونین کے افسران کے درمیان ایران کے جوہری پروگرام کے بارے میں مذاکرات کے بعد دونوں فریقین نےمذاکرات کے بارے میں بالکل مختلف آراء کا اظہار کیا ہے۔
ایران کی درخواست پر برسلز میں ہونے والی اس بات چیت کو اس لحاظ سے بہت اہم سمجھا جا رہا ہے کہ اس کی ناکامی کی صورت میں جوہری توانائی کا بین الاقوامی ادارہ ایران کے جوہری پروگرام کا معاملہ سیکورٹی کونسل کے سپرد کر سکتا ہے۔
ایک برطانوی ترجمان نے بات چیت کے بعد کہا کہ یورپی یونین کے نمائندوں نے اس بات چیت میں کوئی نئی بات نہیں سنی جبکہ ایرانی نمائندے جاوید وعیدی کے مطابق مذاکرات بہت کامیاب رہے اور انہیں امید ہے کہ یہ جاری رہیں گے۔
ایران اور برطانیہ، فرانس اور جرمنی کے درمیان ہونے والے ان مذاکرات کی درخواست ایران نے کی تھی۔
یورپی یونین کے ان تین ممالک کے علاوہ امریکہ، روس اور چین کے وزراء خارجہ کے درمیان بات چیت کا ایک الگ دور پیر کو لندن میں بھی ہو رہا ہے۔ اس بات چیت میں یہ چھ ممالک رواں ہفتے میں جوہری توانائی کے عالمی ادارے (آئی اے ای اے) کے اجلاس سے پہلے اپنے موقف کو حتمی شکل دیں گے۔
ایران پہلے ہی کہہ چکا ہے کہ اگر عالمی ادارہ اس کے جوہری پروگرام کا معاملہ سیکورٹی کونسل کو بھجواتا ہے تو وہ ادارے کے ساتھ تعاون فوری طور پر ختم کر دے گا۔
واضح رہے کہ ایران کی طرف سے جوہری پروگرام دوبارہ شروع کرنے کے بعد سے یورپی یونین اور امریکہ اس بات کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ معاملہ اقوام متحدہ کی سیکورٹی کونسل کے حوالے کر دیا جائے۔
مبصرین کے مطابق لندن میں ہونے والی بات چیت میں امریکہ اور یورپی یونین کے تینوں ممالک سلامتی کونسل کے دوسرے مستقل ارکان یعنی روس اور چین کو اپنے موقف سے آگاہ کریں گے۔
![]() | |
| برطانوی وزیرخارجہ جیک سٹرا کے مطابق مسئلے کا بہترین حل سفارتی کوششیں ہیں۔ |