Monday, 30 January, 2006, 10:34 GMT 15:34 PST
اسرائیلی سرکاری افسران نے کہا ہے کہ حماس کی جیت کے بعد اسرائیل فلسطینی انتظامیہ کو ٹیکس اور کسٹم ڈیوٹی کی مد میں جمع کی جانے والے رقم کی ترسیل روک سکتا ہے۔ واضع رہے کہ کئی مقامات پر فلسطینی انتظامیہ کے لیے ٹیکس اور کسٹم ڈیوٹی وصول کرنے کی ذمہ داری اسرائیل نے اپنے ہاتھ میں لی ہوئی ہے۔
وزیراعظم کے دفتر کے افسران نے بی بی سی کو بتایا کہ ٹیکس اور کسٹم ڈیوٹی کا معاملہ زیر غور ہے لیکن اس بات کے امکانات کم ہیں کہ رقم کی اگلی قسط فلسطینی انتظامیہ کو دی جائے گی۔ طےشدہ فارمولے کے تحت مذکورہ قسط بدھ کو فلسطینی انتظامیہ کے سپرد کی جانی چاہیے۔
واضح رہے کہ اسرائیل حماس کو ایک دہشگرد تنظیم کہتا ہے اور اس کے ساتھ بات چیت کے لیے تیار نہیں ہے۔
دوسری طرف گزشتہ ہفتے کے فلسطینی انتخابات میں ناکام ہونے والی جماعت الفتح کے حامیوں کی طرف سے غزہ میں احتجاج کا سلسلہ جاری ہے۔