Friday, 27 January, 2006, 07:43 GMT 12:43 PST
عراق میں امریکی فوج نے پانچ عراقی خواتین قیدیوں کو یہ کہہ کر رہا کردیا ہے کہ ان پر الزام عائد کرنے کے لیے شواہد ناکافی ہیں۔
امریکی ترجمان کے مطابق یہ اقدام 419 عراقی قیدیوں کی رہائی کا حصہ ہے۔
ترجمان نے اس بات کی تردید کی کہ خواتین کی رہائی کا فیصلہ امریکی صحافی کے اغوا کاروں کے مطالبے پر کیا گیا ہے۔ امریکی صحافی جل کیرول کو سات جنوری کو بغداد سے اغوا کیا گیا تھا۔ اغوا کاروں نے دھمکی دی تھی کہ اگر عراقی خواتین قیدیوں کو رہا نہ کیا گیا تو وہ خاتون صحافی کو قتل کردیں گے۔
اس سے پہلے بھی عراق میں غیر ملکیوں کو اغوا اور ان کی رہائی کے بدلے خواتین قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ کیا جاتا رہا ہے۔‘
امریکی ترجمان نے کہا ’میں اس بات پر زور دے رہا ہوں کہ خواتین قیدیوں کی رہائی اور امریکی صحافی کے اغوا میں کوئی تعلق نہیں ہے۔ قیدیوں کی رہائی کا فیصلہ عراقی امریکی بورڈ نے کیا ہے‘۔
’ہم نے جب انہیں حراست میں لیا تھا تو ہمارے پاس کافی شواہد تھے کہ یہ لوگ ملکی سکیورٹی کے لیے خطرہ ہیں لیکن کسی خاص جرم کے لیے انہیں نہیں پکڑا گیا تھا‘۔
اغوا کاروں نے گزشتہ ہفتے الجزیرہ چینل پر ایک وڈیو نشر کی تھی جس میں جل کیرول کو دکھایا گیا تھا۔ اغوا کاروں کا مطالبہ تھا کہ صحافی کی بخیریت رہائی کے لیے تمام خواتین قیدیوں کو رہا کیا جائے‘۔
اکتوبر 2004 میں ایک برطانوی اور دو امریکی صحافیوں کو قتل کردیا گیا تھا۔ اغوا کاروں کا مطالبہ تھا کہ عراقی خواتین کو رہا کیا جائے۔
اسی طری نومبر 2004 میں برطانوی امدادی کارکن مارگریٹ حسن کو پہلے اغوا اور پھر قتل کردیا گیا تھا۔