Friday, 27 January, 2006, 13:20 GMT 18:20 PST
فلسطینی رہنما محمود عباس نے اعلان کیا ہے کہ وہ حالیہ انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے والی جماعت حماس کو حکومت سازی کی دعوت دیں گے۔
حماس نے محمود عباس کی فتح پارٹی کو زبردست شکست دی اور 132 کے ایوان میں 76 نشستیں حاصل کی ہیں۔
محمود عباس کا یہ بیان ایک ایسے وقت آیا ہے جب دنیا بھر سے حماس پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے کہ وہ اسرائیل کے خلاف تشدد کو ترک کر دے۔
عینی شاہدین کے مطابق جمعہ کے روز غزہ میں حماس اور فتح کے حامیوں کے مابین اچانک فائرنگ شروع ہو گئی جس میں دو افراد زخمی ہو گئے۔
محمود عباس کا یہ بیان حماس کے ایک سینئر رہنما کے بیان کے بعد آیا ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ فلسطینی رہنما اس بات پر راضی ہوگئے ہیں کہ وہ جلد ہی سیاسی شراکت کے لیے مشاورت کا آغاز کریں گے۔
اسماعیل ہانیہ کے مطابق انہوں نے اگلے دو دنوں میں محمود عباس سے ملنے کے لیئے کہا ہے تاکہ اگلی انتظامیہ کی ہیئت کے بارے میں تفصیلات طے ہو سکیں۔
نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ یہ ملاقات غزہ میں ہو گی کیوکہ اس بات کا کوئی امکان نہیں کہ اسرائیل حماس کے کسی وفد کو اپنی سرزمین سے گزر کر غربِ اردن جانے کی اجازت دے۔
![]() | |
اسرائیل کے عبوری وزیرِ اعظم ایہود المیت کے مطابق ان کا ملک کسی ایسی ’مسلح دہشت گرد تنظیم‘ سے بات نہیں کرے گا جو اسرائیل کے وجود کی تباہی کا مطالبہ کرتی ہے۔
دریں اثناء مشرقِ وسطیٰ امن کی کوششوں میں شریک چار کے گروہ نے جس میں امریکہ، روس، اقوامِ متحدہ اور یورپی اتحاد شامل ہیں، جمعرات کو ایک بیان میں مطالبہ کیا ہے کہ وہ تشدد ترک کرنے کی بات کرے اور اسرائیل کے وجود کو تسلیم کرے۔ پیر کو اس گروہ کا ایک اجلاس لندن میں ہوگا جس میں آئندہ حکمتِ عملی پر بات ہوگی۔
امریکی صدر جارج بش نے کہا ہے کہ امریکہ حماس سے اس وقت تک معاملہ نہیں کرے گا جب تک یہ اسرائیل کو تباہ کرنے کے مطالبے کو مسترد نہیں کرتی۔
فلسطین کے پارلیمانی انتخابات 1996 اور 2006 کے پس منظر میں