Thursday, 26 January, 2006, 09:54 GMT 14:54 PST
فلسطینی انتخابات میں حماس نے بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کر لی ہے۔
ابتدائی نتائج کے مطابق حماس نے 132 ممبران کی پارلیمنٹ میں76 سیٹوں پر کامیابی حاصل کر لی ہے جبکہ الفتح کو صرف 43 سیٹیں ملی ہیں۔
حماس کے ایک ترجمان نے کہا ہے کہ ان کی جماعت دوسرے سیاسی گروہوں سے سیاسی پارٹنرشپ بنانے کے لیے بات کرنا چاہتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بات چیت میں فتح بھی شامل ہونی چاہیئے۔ تاہم فتح نے بات چیت میں حصہ لینے سے انکار کر دیا ہے۔
حماس کے ایک سرکردہ رہنما نے کہا ہے کہ بیرونی دنیا کو تنطیم سے ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے جو کہ کھلے دماغ والی اور تجربہ کار کی تنظیم ہے۔
![]() | |
| حماس کوان انتخابات میں ڈرامائی کامیابی ملی ہے |
اسرائیل، امریکہ اور یورپی یونین حماس کو ایک شدت پسند جماعت خیال کرتے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ وہ حماس سے کسی قسم کو کا رابطہ نہیں رکھناچاہتے ہیں۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق احمد قریع نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’میں صدر محمود عباس کو اپنا استعفی پیش کر رہا ہوں اور حماس کو نئی حکومت تشکیل دینی چاہیے‘۔
حماس نے دعویٰ کیا ہے کہ ایک سو بتیس اراکین پر مشتمل پارلیمان میں اس نے تقریبا ستر فیصد سیٹیں حاصل کرلی ہیں۔
یروشلم میں بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ حماس کی فتح اسرائیل، بین الاقوامی برداری اور خود حماس کے لیے ایک بہت بڑا چیلنج ہوگی۔
ان کا کہنا ہے کہ بہت سے فلسطینیوں کا خیال ہے کہ بحیثیت اپوزیشن پارٹی کے اب اقتدار کے حصول میں کامیابی کے بعد مسلح تحریک زیادہ بہتر حالت میں ہوگی۔