Tuesday, 24 January, 2006, 18:32 GMT 23:32 PST
پاکستانی صدر جنرل پرویز مشرف نے کہا ہے کہ کچھ ایسے اشارے ملے ہیں جن سے باجوڑ کے امریکی حملے میں القاعدہ کے ارکان کی ہلاکت کا امکان ظاہر ہوتا ہے۔ صدر نے یہ بیان اپنے ناروے کے دورے کے دوران جاری کیا ہے۔
افغان سرحد کے نزدیک واقع پاکستان کے قبائلی علاقے باجوڑ ایجنسی کے ڈمہ ڈولا گاؤں پر امریکی فوج نے تیرہ جنوری کو میزائلوں سے حملہ کیا تھا۔ اس حملے کے خلاف ملک بھر میں شدید مذمت اور احتجاج کیا گیا۔
کہا جاتا ہے کہ حملے کا ٹارگٹ القاعدہ کے نائب رہنما ایمن الظواہری تھے۔ اس حملے میں کئی شہری ہلاک اور زخمی اور کئی مکانات تباہ ہوگئے تھے۔
صدر کے بیان سے قبل پاکستان کے وزیر اعظم شوکت عزیز نے کہا تھا کہ اس گاؤں میں القاعدہ کی موجودگی کے کوئی شواہد نہیں ملے ہیں۔لیکن اب صدر مشرف نے ناروے کے دارالحکومت میں صحافیوں کو بتایا ہے کہ حملے میں ہلاک ہونے والوں میں القاعدہ کے ارکان بھی شامل ہوسکتے ہیں۔
صدر نے کہا ’جہاں تک یہ بات ہے کہ آیا القاعدہ کے ارکان وہاں موجود تھے اور حملے میں ہلاک ہوئے، تو میں کہوں گا کہ کچھ ایسے اشارے ملے ہیں کہ القاعدہ سے تعلق رکھنے والے چند افراد اس حملے میں ہلاک ہوئے ہیں۔ ہمیں بس اس بات کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے۔ میں اس بارے میں سو فیصد یقین سے نہیں کہہ سکتا‘۔
![]() | |
| باجوڑ ایجنسی میں وہ گھر جس پر میزائل حملہ ہوا تھا |
مشرف نے کہا کہ ان کا ملک، افغان کے ساتھ سرحدی علاقوں میں اسی ہزار کی فوج تعینات کرکے کسی بھی دوسرے ملک سے زیادہ دہشتگردی کے خلاف نبرد آزما ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ پاکستان یہ سب کچھ کسی دوسرے کے لیے نہیں بلکہ اپنے لیے کررہا ہے۔