Tuesday, 24 January, 2006, 08:49 GMT 13:49 PST
یورپ میں امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے کی خفیہ جیلوں کے بارے میں تحقیق کرنے والے سوئس سینٹر نے کہا ہے ان کو کوئی ایسی شہادت نہیں ملی ہے جس کی بنا پر کہہ سکیں کہ امریکہ نے یورپ میں خفیہ جیلیں قائم کر رکھی ہیں۔
ڈک مارٹی نے تین مہینے پہلے اس وقت انکوائری شروع کی تھی جب امریکی اخبارات میں یہ خبر شائع ہوئی کہ امریکہ نے یورپ میں خفیہ جیل قائم کر رکھی ہیں۔
ڈک مارٹی نے یورپی کونسل کو پیش کی جانی والی اپنی عبوری رپورٹ میں کہا ہے کہ امریکی کی خفیہ پروازوں کو سب یورپی ملکوں کو علم ہے۔امریکہ نے یورپ میں جیلوں کی موجودگی کی نہ تو تصدیق کی ہے البتہ امریکہ اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ اس نے یورپ سے کچھ لوگوں کو پکڑا ہے لیکن ان کو مشرق وسطیٰ کی حکومتوں کے حوالے نہیں کیا ہے۔
ڈک مارٹی پہلے کہتے رہے ہیں کہ ن کو اس بات پر کوئی شک نہیں ہے کہ امریکہ نے یورپ میں خفیہ جیلیں بنا رکھی ہیں جہاں مشتبہ دہشت گردوں کو رکھا جاتا ہے۔
ڈک مارٹی یورپی حکومتوں کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے رہے ہیں جو ان کے مطابق امریکی جرم میں شریک ہیں۔
سٹراس برگ میں بی بی سی کے نامہ نگار راب واٹسن کا کہنا ہے کہ سوئسں سینٹر کو زیادہ شہادتیں نہیں مل سکی ہیں اور ان حالات میں ان کے لیے امریکی خفیہ جیلوں کے بارے انکوائری مشکل کام ثابت ہوئی۔
امریکہ پر یہ بھی الزام ہے کہ یورپ میں خفیہ جیلیں قائم کرنے کے علاوہ اس نے مشتبہ دہشت گردوں کو یورپی ملکوں سے اغوا کر کے خفیہ مقام پر لے گیا۔
یورپی کونسل تحقیق کار یورو کنٹرول سے امریکی فلائٹوں کا ریکارڈ حاصل کی کوشش کر رہی ہے تاکہ مشتبہ دہشت گردوں کو یورپ کی خفیہ جیلوں میں لائے جانے کا پتہ چلایا جا سکے لیکن پورپی کونسل کو اس میں زیادہ کامیابی حاصل نہیں ہو سکی ہے۔