http://bbc.com.im/urdu/

Saturday, 21 January, 2006, 02:22 GMT 07:22 PST

پوپ پر حملہ کرنے والا پھر جیل میں

پوپ جان پال پر پچیس برس پہلے حملہ کرنے والے ترکش باشندے محمت علی کو دوبارہ جیل بھیج دیا گیا ہے۔

محمت علی کو پچھلے ہفتے ہی عدالت نے رہائی کا حکم دیا تھا۔ محمت علی نے 1981 میں وٹیکن میں پوپ جان پر حملہ کیا تھا۔

محمت جن کی عمر اڑتالیس برس ہے، تئیس برس کی عمر سے ہی جرم کے لیے مشہور تھے۔

پوپ جان پال کی جانب سے محمت علی کو معاف کیے جانے کے باوجود وہ بیس سال تک اٹلی کی جیل میں رہے۔
محمت علی کو اٹلی نے سن دوہزار دو میں ترکی کے حوالے کر دیا تھا جہاں انہوں نے بائیں بازوں کے ایک صحافی کے قتل اور دو بینک ڈکیتیوں کے مقدموں میں میں مطلوب تھے۔

عدالت کی سے رہائی ملنے کے بعد ترکی کی حکومت نے ملک کی سب سے اعلی عدالت میں عدالت کے محمت علی کو رہائی دینے کے فیصلے کو چیلنج کیا تھا۔ ترکی کی حکومت کا موقف ہے کہ محمت علی کو اپنے جرم کی سزا بھگتنی چاہیے۔

محمت علی نے 1981 میں سینٹ پیٹر سکوائر میں عیسائیوں کے روحانی پیشوا جان پال پر اس وقت حملہ کیا تھا جب وہ لوگوں کے جذبات کے اظہار میں اپنا ہاتھ ہلا رہے تھے۔ اس وقت پوپ جان پال کھلی گاڑی استعمال کرتے تھے۔ انہوں نے پوپ جون پال پر کئی گولیاں چلائی تھیں جو ان کے پیٹ اور ہاتھ پر لگی تھیں۔ زخمی پوپ کو فوری طور پر ہسپتال پہنچایا گیا تھا جہاں آپریشن کے بعد ان کی جان بچ گئی تھی۔
تاہم آج تک یہ پتہ نہیں چل سکا کہ محمت نے پوپ پر کیوں حملہ کیا تھا ۔محمت علی نے عدالت میں قتل کے کئی جواز پیش کیے۔ماضی میں یہ دعوے بھی کیے جاتے رہے ہیں کہ پوپ پر حملے کے پسِ پشت سابق سویت یونین کے ادارے کے جی بی کا ہاتھ تھا۔