Friday, 20 January, 2006, 08:06 GMT 13:06 PST
نیپال میں بادشاہت کے خلاف جمہوریت نواز مظاہرین کو روکنے کے لیے نیپالی فوجی دارالحکومت کٹھمنڈو میں دن بھر کے کرفیو کے نفاذ کو کامیاب بنانے کی کوشش میں ہیں۔
شاہ گیانندر نے گزشتہ سال اقتدار پر قبضہ کرلیا تھا۔ جمعہ کے کرفیو کے پیش نظر حکام نے ملک کے دو اہم سیاست دان سابق وزیر اعظم گرجا پرساد کوئرالا اور کمیونسٹ رہنما مادھو کمار نیپال کو حراست میں لے لیا ہے۔
جمعرات کو ان سیاست دانوں کی گرفتاری پر ہندوستان کی حکومت نے تشویش کا اظہار کیا تھا اور نیپالی حکومت کے اقدامات کو ان لوگوں کے لیے قابل افسوس قرار دیا جو نیپال میں سیاسی استحکام کے لیے آئینی فورسز کی حمایت کرنا چاہتے ہیں۔
جمعہ کے کرفیو کے نفاذ کے باوجود سات سیاسی جماعتوں پر مبنی اپوزیشن اتحاد نے مظاہرہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ملک میں غیرمعینہ مدت کے لیے احتجاجی ریلیوں پر پابندی عائد کردی گئی ہے۔
دو سیاسی رہنماؤں کی نظربندی حکومت کی جانب سے سیاسی مظاہرین کے خلاف سخت اقدامات کی ایک کڑی ہے۔ مظاہرین ملک میں دوبارہ جمہوریت کی بحالی کا مطالبہ کررہے ہیں۔
جمعرات کو اپوزیشن اور حقوق انسانی کے سینکڑوں کارکنوں کو دارالحکومت کٹھمنڈو میں گرفتار کرلیا گیا اور شہر میں ٹیلی فون رابطے منقطع کردیے گئے۔ یہ واضح نہیں ہے کہ جمعہ کے روز مظاہرہ ہو سکے گا یا نہیں۔
حکومت نے کٹھمنڈو میں مقامی وقت کے مطابق صبح آٹھ بجے سے شام چھ بجے تک کرفیو نافذ کیا ہوا ہے۔ ہزاروں فوجی اور پولیس کے اہلکار شہر اور اس کے اطراف میں تعینات کردیے گئے ہیں۔