Friday, 20 January, 2006, 14:23 GMT 19:23 PST
کینیڈا میں 23 جنوری کو ہونے والے عام انتخابات کی انتحابی مہم گزشتہ سنیچر کو ختم ہو گئی۔ اس انتخابی مہم میں ایشائی آبادی کی شرکت کا انداز جداگانہ رہا اور اس جداگانہ انداز کی وجہ وہ ایشیائی امیدوار ہیں جو پارلیمنٹ کا رکن بننا چاہتے ہیں۔
یہ ایشیائی آبادی کینیڈا میں ٹورنٹو کے مغربی نواح میں آباد ہے۔ انتخابی مہم کے اختتامی دن کی وجہ سے سنیچر کو پورے علاقے میں خوب گہما گہمی رہی۔ ہر طرف کاریں اور لوگ آ جا رہے تھےاور لوگ چھٹی کا مزا لے رہے تھے۔
لیکن سنیچر کا یہ دن جے پال میسی سنگھ، بال گوسال اور جگتال شیر گِل کے لیے ہر دروازے کو کھٹکھٹانے، لوگوں کی باتیں اور شکایتیں سننے اور باہر کا کھانا کھانے کے کئی دنوں کا اختتام تھا۔
یہ تینوں ان پچاس جنوبی ایشیائی امیدواروں میں سے ہیں جو اس بار پارلیمنٹ کا رکن بننا چاہتے ہیں۔
بال گوسال کا پورا گھر ہی اس انتخابی مہم میں شریک ہے اور ان کے ساتھ ساتھ ان کی اہلیہ بیٹا اور دو بیٹیاں بھی انتخابی مہم میں شریک رہیں۔ وہ کنزرویٹو پارٹی کے رکن ہیں۔
بال گوسال کا کہنا تھا کہ ان کی انتخابی مہم تین زبانوں میں تھی۔ پنجابی ان کی اپنی سکھ برادری کے لیے جو ان کے حلقۂ انتخاب میں بالااکثریت ہے، ہندی دوسرے اکثر ایشیائیوں کے لیے اور انگریزی ان باقیوں کے لیے جن کے لیے یہ دو زبانیں ناقابلِ فہم ہوں۔
ان کا کہنا ہے کہ انتخابی مہم کے دوران انہیں ہر دروازے پر اکثر تقریباً تینوں ہی زبانیں ایک ساتھ بولنا پڑیں۔ اور ’مجھے اس پر کوئی اعتراض بھی نہیں، بس ووٹ ملنا چاہیے‘۔
یہ بریمپٹن کے علاقے کا ذکر ہے جو بڑی تیزی سے کنیڈا میں کثیر الثقافتی برادریوں کا مرکز بن چکا ہے۔
![]() | |
| انہیں ہر دروازے پر پنجابی، ہندی اور انگریزی کو آزمانہ پڑا |
جے پال میسی سنگھ جو انوائرمینٹلسٹ گرین پارٹی کے امیدوار ہیں کہتے ہیں ’ذرا سوچیں، یہ وہ جگہ ہے جہاں آپ ہندوستان سے آتے ہیں، جس طرح آپ کا دل چاہے عبادت کرتے ہیں، جس طرح کا آپ کا دل چاہے کھانا کھا سکتے ہیں اور جو زبان چاہے بول سکتے ہیں اور کنیڈین کہلاتے ہیں‘۔
جگتار شیر گِل تیرہ سال پہلے انشورنس ایجنٹ کے طور پر کنیڈا آئے تھے۔ وہ اپنے پر ممکنہ ووٹر کو یہ بتاتے تھے کہ ان کے دو بیٹے کنیڈا کی قومی آئس ہاکی ٹیم میں کھیلتے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ ’یہ عزیم ملک ہے۔ آپ یہاں آتے ہیں، ملازمت حاصل کرتے ہیں، گھر بناتے ہیں، ایک اچھی زندگی شروع کرتے ہیں اور پارلیمنٹ کی رکنیت کے لیے امیدوار بن جاتے ہیں اب ہو سکتا ہے کہ آپ جیت بھی جائیں‘۔