Tuesday, 17 January, 2006, 15:17 GMT 20:17 PST
ایران عراق سرحد پر واقع شط العرب کے پانیوں میں مدبھیڑ کے بعد ایرانی اہلکاروں نے نو عراقی ’ کوسٹ گارڈز‘ کوحراست میں لے لیا ہے۔
بصرہ کے گورنر محمد الولی کا کہنا ہے کہ ایرانی بحریہ کے اہلکاروں نے تیل کی سمگلنگ کے شبہ میں ایک ایرانی کشتی کی تلاشی لینے والے عراقی کوسٹ گاڈز پر حملہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس حملے میں ایک عراقی محافظ ہلاک بھی ہوا ہے تاہم عراق نے اس ہلاکت کی تصدیق نہیں کی ہے۔
عراق کی سرحدی فوج کے کمانڈر عباس موساوی نے مطالبہ کیا ہے کہ زیر حراست افراد کو جلد از جلد رہا کیا جائے۔ انہوں نے اپنے بیان میں کہا ’ہم ایرانی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ ہمارے کوسٹ گارڈز کو رہا کردے جنہیں بغیر کسی وجہ کے شط العرب کے عراقی حصے سے پکڑا گیا ہے۔ یہ افراد شط العرب میں اپنے معمول کے قانونی فرائض ادا کررہے تھے‘۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب عراقی کوسٹ گارڈز بصرہ سے قریباً پینتالیس کلومیٹر کے فاصلے پر تیل سمگل کرنے کی کوشش میں مصروف نور ون نامی ایرانی جہاز پر چڑھے۔ انہوں نے کہا کہ ’جب ہماری بحریہ کے اہلکار جہاز پر سوار ہوئے تو انہیں معلوم ہوا کہ جہاز ران ایرانی تھا جس نے ایرانی فوجیوں کو اس کارروائی سے آگاہ کردیا‘۔
ایران عراق کے درمیان واقع پانی کا یہ قطعہ واضح طور پر سرحد کی نشاندہی نہیں کرتا جس کے باعث یہ دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کا باعث ہے اور یہی کشیدگی انیس سو اسی میں ایران عراق جنگ کا باعث بنی تھی۔