http://bbc.com.im/urdu/

Monday, 16 January, 2006, 14:01 GMT 19:01 PST

ایران پر لندن میں غور

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے مستقل رکن ممالک پیر کو لندن میں ایک کانفرنس میں شرکت کر رہے ہیں جس میں ایران کے جوہری پروگرام کے بارے میں حکمت عملی وضع کی جائے گی۔

دریں اثناء امریکہ میں ایران کو جوہری ہتھیاروں کے حصول سے باز رکھنے کے لیے قوت کے استعمال پر سیاسی حلقوں میں اتفاق رائے پیدا ہو رہا ہے۔ امریکہ کی دونوں بڑی سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے سینئر اراکین اس بات پر متفق ہیں کہ ایران کو جوہری ہتھیاروں کے حصول سے روکنے کے لیے آخر کار امریکہ کو فوجی راستہ ہی اختیار کرنا پڑےگا۔

اسی دوران جوہری ہتھیاروں کے پھلاؤ کو روکنے کے عالمی ادارئے آئی اے ای اے کے سربراہ محمد البرادعی نے کہا ہے کہ وہ یقین کے ساتھ نہیں سکتے کہ ایران کا جوہری پروگرام صرف پرامن مقاصد کے لیے ہے۔

لندن کانفرنس
لندن میں ہونے والی کانفرنس میں شریک فرانس، جرمنی، روس، امریکہ، برطانیہ اور چین کے وزراء خارجہ جوہری پروگرام جاری رکھنے کی صورت میں ایران پر اقتصادی پابندیاں عائد کرنے کی تجویز پر بھی غور کریں گے۔

کانفرنس کے آغاز پر برطانیہ کے وزیر خارجہ جیک اسٹرا نے کہا ہے کہ جوہری پروگرام کے حوالے سے عالمی برادری کو مناسب یقن دہانیاں فراہم کرنے کی ذمہ داری ایران پر ہی عائد ہوتی ہے۔

سعودی ردعمل
بی بی سی کو انٹرویو دیتے ہوئے سعودی عرب کے وزیر خارجہ سعود الفیصل نے کہا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام کی ذمہ داری جزوی طور پر مغربی دنیا پر ہی عائد ہوتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ عرب ممالک اور ایران سمجھتے ہیں مغربی دنیا جوہری ہتھیاروں کے حوالے سے دوہرے معیار کا شکار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مغربی دنیا کو اسرائیل کے جوہری ہتھیاروں کے بارے میں تو کوئی اعتراض نہیں لیکن دوسری طرف وہ کسی اسلامی ملک کو وسیع تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں حاصل کرنے کی اجازت نہیں دینا چاہتی۔

’صبر کا پیمانہ لبریز ہورہا ہے‘
برادعی نے ایران پر اپنی رپورٹ کی ڈیڈ لائن میں مزید توسیع کرنے سے انکار کیا ہے۔ یہ رپورٹ چھ مارچ کو منظر عام پر آنے والی ہے۔ اگرچہ برادعی ماضی میں ایران کے ساتھ کسی بھی تصادم کو بڑھاوا دینے کے خلاف رہے ہیں، لیکن اب وہ کہ رہے ہیں کہ سفارتی طریقوں کے ساتھ ساتھ دباؤ بھی ضروری ہے۔

نیوز ویک میگزین کو دئے گئے ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ تین برس کی چھان بین کے بعد بھی وہ اس نتیجے پر نہیں پہنچے کہ ایران کا جوہری پروگرام صرف اور صرف پر امن مقاصد کے لئے ہے اور نہ کہ جوہری ہتھیار بنانے کے لیے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو رہا ہے۔

امریکی سیاسی حلقے
سینئیر ریپبلِکن سینیٹر جان مککین نے کہا ہے کہ (ایران کے خلاف) حملہ آخری راستہ ہے تاہم اس کو خارج از امکان کہنا پاگل پن ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ایران کے ہاتھ جوہری ہتھیار لگنے سے بہتر ہو گا کہ اسے قوت کے ذریعے پہلے ہی حل کر دیا جائے۔

حزب اختلاف ڈیموکریٹک پارٹی سے تعلق رکھنے والی سینیٹر ڈیان فانسٹائن نے کہا ہے کہ ان کو یقین ہے کہ اگر ایران نے جوہری ہتھیار بنالیے تو وہ انہیں اسرائیل کے خلاف ضرور استعمال کرے گا۔

ڈیموکریٹک پارٹی کی طرف سے اگلے صدارتی انتخاب کے متوقع امیدوار سینیٹر ایون بہ نے کہا کہ ایران کے خلاف قوت کے استعمال سے ایران کو جوہری ہتھیاروں کے حصول سے دور کیا جا سکتا ہے۔

ایرانی ردعمل
ایران اس بات سے انکار کرتا رہا ہے کہ وہ جوہری ہتھیار بنانے کی تگ و دو میں ہے، تاہم اس کا کہنا ہے وہ بین الاقوامی دباؤ کے سامنے نہیں جھکے گا۔

صحافی صدیقہ صباح نے تہران سے اپنے مراسلے میں اطلاع دی ہے کہ ایرانی عوام میں اقوام متحدہ کی طرف سے اقتصادی پابندیایوں کے بارے میں تشویش پائی جاتی ہے۔

صدر احمدی نژاد کی حکومت ابھی تک جوہری پروگرام کو قومی وقار کا مسئلہ بنا کر عوامی رائے عامہ کو اپنے حق میں ہموار رکھنے میں کامیاب رہی ہے۔تاہم اب لوگوں نے تصادم کی پالیسی اختیار کرنے کے فیصلہ پر اعتراض کرنا بھی شروع کر دیا ہے۔ عام آدمی اقتصادی پابندیوں کی صورت میں پیدا ہونے والی مشکلات کے بارے میں متفکر ہے۔

سرکاری اہلکار اقوام متحدہ کی طرف سے اقتصادی پابندیوں عائد کرنے کی دھمکیوں کو کھوکھلی قرار دے رہےہیں۔ ان کے مطابق اقتصادی پابندیاں لگنے سے تیل کی عالمی قیمت میں اضافہ ہوگا جو کہ مغربی ملکوں کے اپنے حق میں نہیں۔

ایران کے اقتصادی ماہرین کاخیال ہے کہ اقتصادی پابندیوں کی صورت میں ایرانی کی معیشت بری طرح متاثر ہوگی۔