Monday, 16 January, 2006, 11:37 GMT 16:37 PST
سعودی عرب نے کہا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام کی موجودہ صورتحال کی ذمہ داری جزوی طور پر مغرب پر عائد ہوتی ہے کیونکہ مغرب نے اسرائیل کو جوہری ہتھیار بنانے کی اجازت پہلے ہی دے رکھی ہے۔
سعودی عرب کے وزیر خارجہ شہزادہ سعود الفیصل نے کہا ہے کہ ایران کے صدر نے جو بیانات جای کیے ہیں وہ کافی ’سخت‘ ہیں تاہم ان کا کہنا تھا کہ سفارتکاری ہی وہ واحد طریقہ ہے جس سے یہ مسئلہ حل کیا جاسکتا ہے۔
سعود الفیصل نے یہ بیان لندن میں دہشتگردی کے موضوع پر ہونے والی دو روزہ کانفرنس کے دوران جاری کیا ہے۔
وزیر خارجہ نے خلیج میں ’نیوکلیئر فری زون’ قائم کرنے کی تجویز دی ہے۔
شہزادہ سعود نے بی بی سی کو بتایا کہ ایران کی جوہری پالیسی کے لیے مغربی دنیا ذمہ دار ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک طرف ایران کو جوہری پروگرام روکنے کے لیے کہا جارہا ہے جبکہ دوسری طرف مغرب نے اسرائیل کو جوہری ہتھیار بنانے میں بذات خود مدد کی ہے۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ اگر ایران نے جوہری ہتھیار تیار کرلیے تو اس پر سعودی عرب کا کیا رد عمل ہوگا تو انہوں نے کہا کہ ان کا ملک جوہری ہتھیاروں کی دوڑ میں شامل نہیں ہوگا۔
ان کا کہنا تھا کہ جوہری ہتھیار کسی کی مدد نہیں کرتے۔’اگر ایران نے یہ ہتھیار اسرائیل کے خلاف استعمال کیے تو اس سے فلسطینی بھی ہلاک ہوں گے’۔
شہزادہ سعود نے برطانیہ سمیت دیگر ممالک پر زور دیا کہ وہ سعودی عرب کے ساتھ مل کر ’انسداد دہشتگردی‘ کا ایک مرکز قائم کریں۔
ان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب میں القاعدہ سے نمٹنے کے لیے کوششیں جاری ہیں ’تاہم ہماری حکومت عراق میں لڑنے والے سعودی عسکریت پسندوں کی واپسی کے لیے فکر مند ہے۔