Wednesday, 11 January, 2006, 15:45 GMT 20:45 PST
اقوام متحدہ کے ادارہ برائے خوراک اور زراعت نے خبردار کیا ہے کہ برڈ فلو کا مرض ترکی میں ایک وباء کی شکل اختیار کر سکتا ہے اور اس کی وجہ سے آس پاس کے ممالک بھی اس وباء کے پھیلنے کے خطرے سے دوچار ہیں۔
ادارے کے اہلکار جون لوبروتھ کا کہنا ہے کہ اس کے بچاؤ کی تدابیر کے باوجود برڈ فلو پھیل سکتا ہے۔ ترکی میں اس مرض کے منظر عام پر آنے کے بعد تین لاکھ مرغیاں ہلاک کر دی گئی ہیں۔
اس کے ساتھ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزشن کا کہنا ہے کہ ترکی میں اس مرض پر قابو پانے کے لیے ضروری ہے کہ برڈ فلو کے بارے میں لوگوں کو معلومات فراہم کی جائیں اور ان میں اس حوالے سے پیدا ہونے والی بے چینی کو ختم کیا جائے۔
ترکی میں اس مرض کے وائرس یعنی ایچ 5 این 1 سے اب تک ایک ہی خاندان کے دو افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ تیرہ ہسپتال میں داخل ہیں۔
اس مرض کی روک تھام میں مدد کے لیے اقوام متحدہ کے ادارہ برائے خوراک اور زراعت نے ترکی میں ایک ٹیم بھی بھیجی ہے۔
ادارے نے ترکی کے پڑوسی ممالک آرمینیا، آذربیجان، جارجیا، عراق، ایران اور شام کو خبردار کیا ہے اور انہیں مشورہ دیا ہے کہ وہ اس سلسلے میں کڑی نگرانی رکھیں، احتیاطی اقدامات اٹھائے جائیں اور لوگوں میں اس مرض کے بارے میں شعور پیدا کیا جائے۔
ڈبلیو ایچ او اس بارے میں جاننے کی کوشش کر رہا ہے کہ یہ مرض کس طرح اس قدر تیزی سے ترکی میں پھیلا۔
ادھرمنگل کو چین میں دو مزید افراد کی اس مرض سے ہلاکت کی تصدیق کی گئی۔
ترکی کے دارالحکومت انقرہ میں ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ڈبلیو ایچ او کے ڈاکٹر ڈینزون نے کہا کہ ترکی میں اس مرض کے پھیلاؤ پر سنجیدگی سے غور کیا جار ہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈبلیو ایچ او ترکی کے محکمہ صحت کے ساتھ مل کر اس مرض کے حوالے سے کام کر رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ لوگوں کو خاص کر متاثرہ علاقوں میں یہ بتانے کی ضرورت ہے کہ اس مرض سے خطرہ بیمار اور مردہ مرغیوں سے ہے اور انسانوں میں بچے زیادہ جلدی اس کا شکار ہو سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے بےچینی کا پیدا ہونا بےمعنی ہے کیونکہ اس سے صورت حال مزید خراب ہو گی۔
انہوں نے کہا کہ باوجودیکہ ڈبلیو ایچ او نے ترکی کا سفر کرنے والوں کے لیے ہدایات جاری کی ہیں تاہم ترکی جانے والوں کے اس مرض میں مبتلا ہونے کا کوئی خطرہ نہیں ہے۔
ڈبلیو ایچ او کا کہنا ہے کہ ابھی تک اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ملاہے کہ برڈ فلو انسانوں سے پھیلا ہو۔