Wednesday, 11 January, 2006, 23:46 GMT 04:46 PST
انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے امریکی فوجی اڈے گوانتاناموبے میں قیدیوں کے چار سال پورے ہونے پر ایک نئی رپورٹ جاری کی ہے جس میں تشدد اور زیادتی کے تازہ واقعات کا دعوٰی کیا ہے۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل کا کہنا ہے کہ اب بھی اس جیل میں پانچ سو افراد ایسے ہیں جو الزام یا مقدمہ کے بغیر قید ہیں۔
تنظیم نے ایک بار پھر زور دیا ہے کہ اس جیل کو بند کیا جائے۔
دریں اثناء کیوبا کے ٹرائیبیونل میں ایک کینیڈی اور ایک یمنی شہری کے خلاف مقدمات چلائے جارہے ہیں۔ ایسے ٹرائیبیونلز پر بھی غیر منصفانہ مقدمات چلائے جانے کے الزام ہیں۔
ایمنسٹی کا کہنا ہے کہ گوانتانامو بے کے قیدیوں کی جانب سے جیل میں بدترین حالات، تشدد اور زیادتی کی شکایات بڑھ رہی ہیں۔
تنظیم نے ایک بتیس سالہ بحرینی باشندے جمعہ الدوساری کے کیس پر روشنی ڈالی ہے جنہیں جنوری دو ہزار دو میں گوانتانامو بھیجا گیا تھا۔
ان کے وکیل کا کہنا ہے کہ دوساری کو جیل میں کئی طرح کی اذیتوں کا سامنا ہے۔ وکیل کے مطابق ان کے موکل پر پیشاب کیا گیا ہے، جنسی زیادتی کی دھمکی دی گئی ہے اور ان کے سر کو مسلسل زمین پر مارا جاتا رہا ہے۔ تاہم امریکی حکومت نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔
سمیع الحج نامی ایک سوڈانی شخص کے برطانوی وکیل کلائیو سٹیفرڈ سمتھ کا کہنا ہے کہ انکے موکل کو بھی، جوکہ عرب ٹی وی نیٹ ورک الجزیرہ کے لیے بطور کیمرہ مین کام کرتے رہے ہیں، گزشتہ چار سال کے دوران شدید ذہنی، جسمانی اور جنسی تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے اور ان کے مذہب کی توہین بھی کی جاتی رہی ہے۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ سمیع نے دس مرتبہ خودکشی کی کوشش بھی کی ہے۔
ایمنسٹی کے برطانوی نمائندے سٹیفن براؤن نے اس صورت حال کو ’انتہائی افسوسناک‘ قرار دیا ہے۔
’گوانتانامو جیل کا کوئی جواز نہیں ہے۔ اسے بند ہونا چاہیے اور تشدد سے متعلق ان درجنوں رپورٹس کی تحقیقات ہونی چاہئیں جوکہ 2002 سے اب تک سامنے آتی رہی ہیں۔‘
ایک یمنی باشندے علی حمزہ البہلول کو، اسامہ بن لادن کا باڈی گارڈ ہونے کے الزام میں فوجی عدالت میں پیش کیا جائے گا۔ انہیں کہا گیا ہے کہ وہ جنگی جرائم کی سازش کے الزامات کے خلاف اپنا دفاع کریں۔
اسی طرح انیس سالہ کینیڈین قیدی عمر خضر کے خلاف مقدمہ قائم کرنے سے قبل ایک سماعت کی جائے گی۔ ان پر ایک امریکی فوجی کو ہلاک کرنے کا الزام ہے۔
اگر ان دو افراد پر جرائم ثابت کردیے گئے تو انہیں عمر قید کی سزا کا سامنا ہوگا۔
یہ دو مقدمات ابھی چل رہے ہیں تاہم گوانتانامو کے دیگر قیدیوں کے مقدمات امریکی سپریم کورٹ نے یہ کہہ کر روک رکھے ہیں کہ پہلے یہ فیصلہ ہوجائے کہ آیا صدر بش کو ایسے ٹرائیبیونل قائم کرنے کا اختیار ہے بھی یا نہیں۔
بش انتظامیہ کا موقف ہے کہ اسے ان مقدمات اور افراد سے نمٹنے کے لیے لچک درکار ہے۔