Tuesday, 10 January, 2006, 02:15 GMT 07:15 PST
فلسطینی رہنما محمود عباس نے کہا ہے کہ انہیں امریکہ نے یقین دلایا ہے کہ اسرائیل پچیس جنوری کو ہونے والے انتخابات میں مشرقی یروشلم میں عربوں کو ووٹ ڈالنے دے گا۔
محمود عباس نے کہا کہ انہیں یہ یقین دہانی خود امریکی صدر جارج بش نے کرائی ہے۔
پیر کو اسرائیل نے اعلان کیا تھا کہ وہ مشرقی یروشلم میں انتخابی مہم کی اجازت دے گا لیکن وہاں حماس تنظیم کے شدت پسندوں کو اس کام کی اجازت نہیں ہوگی۔
اس سے قبل اسرائیل نے عندیہ دیا تھا کہ علاقے میں عرب ووٹروں کو شاید ووٹ نہ ڈالنے دیا جائے۔
اسرائیل کے وزیرِ دفاع نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ اصولی طور پر ان کا ملک اس بات پر تیار ہو گیا ہے کہ وہ مشرقی یروشلم کے عرب رہائشیوں کو ووٹ ڈالنے دے گا۔
محمود عباس نے کہا کہ اگر مشرقی یروشلم میں کسی کو ووٹ ڈالنے سے روکنے کی کوشش کی گئی تو انتخابات التواء کا شکار ہو سکتے ہیں۔
تاہم پیر کو انہوں نے اعلان کیا کہ ’آج مجھے امریکی یقینی دہانیاں ملی ہیں کہ یروشلم میں ووٹنگ کی بھی اجازت ہوگی اور انتخابات بھی ہوں گے۔ انتخابات کا سلسلہ چلے گا اور انشاءاللہ یہ انتخابات وقت پر بھی ہوں گے۔‘
گزشتہ ہفتے اسرائیلی پولیس نے اس علاقے میں فلسطینی امیدواروں کو انتخابی مہم سے روک دیا تھا۔
تاہم اسرائیل کی طرف سے تازہ ترین بیان میں کہا گیا ہے کہ امیدوار پولیس کے پاس اپنے نام درج کروانے کے بعد اس علاقے میں انتخابی مہم میں حصہ لے سکتے ہیں۔
تاہم ایک اور اسرائیلی اہلکار کا کہنا ہے کہ امیدوار اگرچہ انتخابی مہم میں شریک بھی ہو سکتے ہیں اور کیمپینگ کر سکتے ہیں لیکن حماس کے حمایتیوں کو اس سہولت کی اجازت نہیں ہوگی۔
تاہم فلسطینی سیاست دانوں نے اس شرط کو مسترد کر دیا ہے اور حماس کے ایک اہلکار نے کہا ہے کہ تنظیم نے پہلے ہی مشرقی یروشلم میں انتخابی مہم کا آغاز کر دیا ہے۔
غزہ میں بھی امن و امان کی صورتِ حال کے باعث انتخابات کو خطرہ ہے۔ مشرقی یروشلم میں دو لاکھ کے قریب فلسطینی رہتے ہیں اور یہ وہ علاقہ ہے جس پر اسرائیل نے انیس سو سڑسٹھ میں قبضہ کر لیا تھا۔ تاہم یہاں رہنے والے فلسطینیوں کو انیس سو چھیانوے میں ہونے والے انتخابات میں ووٹ ڈالنے کی اجازت دی گئی تھی۔ ان انتخابات میں حصہ نہیں لیا تھا۔