Tuesday, 03 January, 2006, 10:56 GMT 15:56 PST
ایک چینی اہلکار کا کہنا ہے کہ ایک اندازے کے مطابق سن دو ہزار پانچ میں چینی معیشت کی شرح ترقی نو اعشاریہ آٹھ فیصد رہی ہے۔
اس کا مطلب یہ ہوا کہ غیرمتوقع طور پر چینی معیشت نے بہتر کارکردگی دکھائی ہے۔
او سِنکیانگ نے جو چین کے قومی ترقیاتی اور اصلاحاتی کمیشن کے ایک سینیئر اہلکار ہیں بتایا کہ اندازہ ہے کہ معیشت کی شرح ترقی کم سے کم نو اعشاریہ آٹھ فیصد رہی ہے۔
اگر یہ شرح ترقی حتمی تجزیہ میں صحیح ثابت ہوتی ہے جیسا کہ امید ہے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ دوہزار تین اور دو ہزار چار کے مقابلے میں چینی معیشت کی شرح ترقی اس سال بہتر رہی۔
پہلے اندازہ لگایا گیا تھا کہ دو ہزار پانچ میں چینی معیشت کی شرح ترقی نو اعشاریہ چار فیصد رہی جو کہ کچھ گزشتہ دو برسوں کے دوران تھی۔
دوہزار تین اور دوہزار چار میں شرح ترقی نو اعشاریہ پانچ فیصد رہی تھی۔
دو ہزار چار میں چین کی سالانہ آمدنی اور پیداوار ایک اعشاریہ نو ٹریلین تھی، جو کہ اندازے سے اٹھارہ فیصد زیادہ ثابت ہوئی تھی۔
دوہزار پانچ کے لیے سرکاری طور پر چینی معیشت کی شرح ترقی کا اندازہ اسی ماہ شائع کیا جانے والا ہے۔