Sunday, 01 January, 2006, 01:59 GMT 06:59 PST
شام کے ارکانِ پارلیمنٹ نے مطالبہ کیا ہے کہ جلاوطن سابق نائب صدر عبدالحلیم پر بغاوت کا مقدمہ چلایا جائے۔ ان پر اس مقدمے کا مطالبہ ان کے اس بیان کے بعد کیا گیا ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ شام کے صدر بشر الاسد نے رفیق حریری کو فروری میں ان کے قتل سے چند ماہ قبل دھمکیاں دی تھیں۔
شامی پارلیمنٹ میں اس مطالبے سے قبل ارکان پارلیمنٹ نے مسلسل اور بار بار خدام کے اس بیان کی مذمت کی۔
مقتول لبنانی وزیراعظم حریری ایک بم دھماکے میں ہلاک کر دیے گئے تھے اور ان کی ہلاکت کی اقوام متحدہ نے تفتیش کی تھی جس میں اس شک کا اظہار کیا گیا تھا کہ حریری کے قتل میں شام کی خفیہ ایجنسی کے اہلکار اور ان کے لبنانی ہم منصبوں کے ملوث ہونے کی شہادتیں ہیں۔
شام نے اس الزام کی مسلسل تردید کی ہے اور اس کے ساتھ یہ بھی کہا ہے کہ اگر اس کا کوئی اہلکار حریری کے قتل میں ملوث ہو گا تو اسے سزا دی جائے گی۔
سابق نائب صدر خدام نے العریبہ ٹیلی ویژن کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ ’حریری کو کئی دھمکیاں ملیں‘۔
انہوں نے ٹیلی ویژن کو بتایا: ’اسد نے مجھے بتایا کہ انہوں نے حریری کو کچھ کافی، کافی سخت الفاظ کہے ہیں، کچھ اس طرح کی بات کہ ’میں کسی کو بھی جس نے ہماری بات نہ مانی کچل دوں گا‘۔
سابق وزیراعظم رفیق حریری پر لبنان کی سیاست میں شام کے موقف کی حمایت کے لیے کافی دباؤ تھا۔
اقوام متحدہ کے تفتیش کار ڈیتلیو مہلس کا کہنا ہے کہ کئی ذرائع نے بتایا کہ رفیق حریری نے انہیں بتایا تھا کہ صدر بشر الاسد نے دھمکی دی تھی کہ اگر انہوں نے لبنانی صدر امیل لاہود کے اقتدار میں توسیع کی حمایت نہیں کی تو وہ ’لبنان کو (ان کے) سر پر توڑ دیں گے‘ ۔
عبدالحلیم خدام نے، جن کی عمر تہتر سال ہے، گزشتہ جون میں شام کے نائب صدر کی حیثیت سے استعفیٰ دیدیا تھا۔ انہوں نے العربیہ ٹیلی ویژن کو بتایا کہ وہ بشر الاسد سے باضابطہ طور پر اب تمام تعلقات ختم کررہے ہیں۔