Friday, 30 December, 2005, 23:47 GMT 04:47 PST
شام کے سابق نائب صدر عبدالحلیم خدام نے کہا ہے کہ صدر بشر الاسد نے رفیق حریری کو فروری میں ان کے قتل سے چند ماہ قبل دھمکیاں دی تھیں۔
سابق نائب صدر خدام نے کہا کہ ’حریری کو کئی دھمکیاں ملیں۔‘ لبنان کے سابق وزیراعظم رفیق حریری کو گزشتہ فروری میں دارالحکومت بیروت میں کار بم دھماکے سے اڑا دیا گیا تھا۔
انہوں نے العربیہ ٹیلی ویژن کو بتایا: ’’اسد نے مجھے بتایا کہ انہوں نے حریری کو کچھ کافی، کافی سخت الفاظ کہے ہیں، کچھ اس طرح کی بات کہ ’میں کسی کو بھی جس نے ہماری بات نہ مانی کچل دوں گا‘۔‘‘
رفیق حریری کے قتل کی تحقیقات کرنے والے اقوام متحدہ کے تفتیش کار نے کہا ہے کہ شام ان کے قتل میں ملوث ہے۔ لیکن شام کی حکومت رفیق حریری کے قتل میں ملوث ہونے سے انکار کرتی رہی ہے۔
سابق وزیراعظم رفیق حریری پر لبنان کی سیاست میں شام کے موقف کی حمایت کے لیے کافی دباؤ تھا۔
اقوام متحدہ کے تفتیش کار ڈیتلیو مہلس کا کہنا ہے کہ کئی ذرائع نے بتایا کہ رفیق حریری نے انہیں بتایا تھا کہ صدر بشر الاسد نے دھمکی دی تھی کہ اگر انہوں نے لبنانی صدر امیل لاہود کے اقتدار میں توسیع کی حمایت نہیں کی تو وہ ’لبنان کو (ان کے) سر پر توڑ دیں گے‘ ۔
عبدالحلیم خدام نے، جن کی عمر تہتر سال ہے، گزشتہ جون میں شام کے نائب صدر کی حیثیت سے استعفیٰ دیدیا تھا۔ انہوں نے العربیہ ٹیلی ویژن کو بتایا کہ وہ بشر الاسد سے باضابطہ طور پر اب تمام تعلقات ختم کررہے ہیں۔
نائب صدر کی حیثیت سے عبدالحلیم خدام لبنان سے متعلق شام کی پالیسیوں کے انچارج بھی ہوا کرتے تھے۔ لبنان میں کئی عشروں سے شام کا اثر و رسوخ رہا ہے اور شام نے اپنی افواج وہاں سے اسی سال واپس بلائیں۔
بی بی سی کی نامہ نگار کِم گھٹاس کا کہنا ہے کہ عبدالحلیم خدام کے بیان کو کافی اہم اور ممکن ہے اسے خطرناک سجھا جائے گا اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اقوام متحدہ کے تفتیش کار ان کے بیان میں دلچسپی لیں۔
تاہم بی بی سی کی نامہ نگار کا یہ بھی کہنا ہے کہ یہ واضح نہیں ہے کہ بشر الاسد کے سابق نائب صدر نے اس وقت یہ بیان کیوں دیا ہے، کہیں ایسا تو نہیں کہ وہ مستقبل میں بشر الاسد کی جگہ خود کو لانا چاہتے ہیں۔
سابق نائب صدر اس وقت فرانس کے دارالحکومت پیرس میں مقیم ہیں۔