Thursday, 29 December, 2005, 04:38 GMT 09:38 PST
شام کے وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ لبنان کے سابق وزیراعظم رفیق حریری کے قتل کی تحقیقات میں ان کا ملک اقوام متحدہ کے نئے تفتیش کار کے ساتھ پورا تعاون کرے گا۔
وزیر خارجہ فاروق الشرع کا کہنا تھا کہ حریری قتل میں اقوام متحدہ کے نئے تفتیش کار کے ساتھ تعاون کے لیے شام نے ایک پروٹوکول کا مطالبہ کیا ہے جس کے تحت مکمل تعاون دیا جاسکے۔
ان کے مطابق اس پروٹوکول میں تعاون کے تمام ضوابط درج ہونے چاہئے۔
شامی وزیر خارجہ نے پروٹوکول کا مطالبہ اس وقت کیا جب اقوام متحدہ نے حریری قتل کی تفتیش کے لیے بیلجیئم سے تعلق رکھنے والے پراسیکیوٹر سرجی برامیرٹس کی نامزدگی کا اعلان کیا۔ سرجی برامیرٹس ہیگ میں جرائم کی عالمی عدالت میں ڈِپٹی پراسیکیوٹر ہیں۔
وہ حریری قتل کیس میں آگے کی تفتیش کریں گے۔ رفیق حریری کو لبنان کے دارالحکومت بیروت میں ایک کار بم دھماکے میں اڑا دیا گیا تھا۔
امریکہ سمیت مغربی ممالک اس کے لیے شام کو ذمہ دار ٹھہراتے ہیں کیوں کہ اس کا اثرو رسوخ لبنان میں عشروں سے رہا ہے۔
اب تک اس کیس کی تفتیش جرمنی سے تعلق رکھنے والے ڈیٹلیو مہلِس کررہے تھے۔ انہوں نے کہا تھا کہ وہ اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ حریری کی ہلاکت میں شام اور لبنان کی انٹیلیجنس کے اہلکاروں کا ہاتھ ہے۔
شام نے حریری قتل میں ملوث ہونے کے الزامات مسترد کردیے ہیں۔