Sunday, 25 December, 2005, 01:56 GMT 06:56 PST
اسرائیل کے ایک اعلی رومن کیتھولک رہنما مشیل صباح نے کہا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے یروشلم اور فلسطین کو تقسیم کرنے کے لیے غرب اردن میں بنائی جانے والی بارہ گز اونچی فصیل نے بیت اللحم کو ایک بہت بڑے قید خانے میں تبدیل کر کے رکھ دیا ہے ـ
اسرائیل کے مطابق فلسطینی خود کش بمباروں کا اسرائیل میں داخلہ روکنے کے لیے یہ فصیل انتہائی ضروری ہے تاہم فلسطینی اسے اپنی زمین پر قبضہ تصور کرتے ہیں۔
یروشلم کے عیسائی مذہبی پیشوا مشیل صباح نے جو اسرائیل میں پوپ کے نمائندے بھی ہیں، کہا کہ انسانوں کے درمیان کھڑی کی جانے والی ہر قسم کی رکاوٹوں کو توڑ دینا چاہیے اور اور ان کے بدلے امن اور محبت کے پل تعمیر کیے جانے چاہیں۔
انہوں نے فلسطینیوں کے لیے خود مختار ریاست کے حق کی حمایت بھی کی۔انہوں نے کہا ’ فلسطینی آ زادی مانگ رہے ہیں اور وہ قبضے کا خاتمہ چاہتے ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ ان کی اپنی خود مختار ریاست قائم ہو اور ان کا اپنا دارالحکومت ہواور یہ سب ان کو ملنا چاہیے‘۔
اسرائیلی ریڈیو کے مطابق انہوں نے کہا کہ مقدس سر زمین کو سرحدی چوکیوں کی ضرورت نہیں ہے۔
اسرائیل اور فلسطین کی کئی عسکری تنظیموں کے درمیان جنگ بندی کے معاہدے کی وجہ سے پچھلے سال کے مقابلے میں اس سال کافی زیادہ لوگ بیت اللحم آئے تاہم بیت اللحم میں بی بی سی کے نمائندے ڈین ڈیمن کا کہنا ہے کہ تناؤ کی کیفیت ابھی بھی ہے اور فلسطینی روزگار کی کمی اور اسرائیلی فوجیوں کی طرف سے بار بار چھاپوں کی شکایت کرتے نظر آتے ہیں۔
تاہم بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ باوجود اس تناؤ کی کیفیت کے بیت اللحم میں ہر طرف رنگا رنگ روشنیاں نظر آ رہی ہیں اور نغمے سنائی دے رہیں اور عیسائی زائرین اور مسلمان مل کر کرسمس کے تقریبات کا بھر پور مزا لے رہے ہیں۔