Saturday, 24 December, 2005, 17:24 GMT 22:24 PST
عراق میں بڑے شیعہ اتحاد یونائیٹڈ عراقی الائنس نے سنی عربوں پر زور دیا ہے کہ وہ پارلیمانی انتخابات کے دوبارہ انعقاد کا مطالبہ ختم کریں۔
شیعہ اتحاد کا کہنا ہے کہ وہ سنی اور سیکولر سیاستدانوں کے ساتھ عراق کی نئی حکومت میں شراکت پر بات کرنے کے لیے تیار ہیں۔
جمعہ کے روز سنی جماعتوں نے انتخابات کو غیر منصفانہ قرار دیتے ہوئے مظاہرے کیے تھے۔
ابتدائی نتائج کے مطابق شیعہ اتحاد نے اکثریت حاصل کی ہے تاہم ملک کا صدر اور وزیر اعظم منتخب کرنے کے لیے انہیں مزید جماعتوں کو اپنے ساتھ ملانا ہوگا۔
دریں اثناء، عراقی الیکشن کمیشن نے انتخابات میں سو سے زائد امیدواروں کو عراق کے معزول صدر صدام حسین کی جماعت بعث پارٹی کے ساتھ روابط کی بنیاد پر انتخابات سے خارج کردیا ہے۔
عراقی الیکشن کمیشن نے انتخابات میں بے قاعدگیوں کے بارے میں سو سے زائد شکایات موصول کی ہیں۔ نامہ نگاروں کے مطابق ان میں سے چند اتنی سنگین نوعیت کی ہیں کہ ان سے انتخابات کے نتائج متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
شیعہ اتحاد کے ایک سینیئر اہلکار جواد الملکی کا کہنا ہے ’انتخابات دوبارہ نہیں کرائے جائیں گے۔ آخر کار ہمیں نتائج کو تسلیم کرنا ہی ہوگا‘۔
خیال ہے کہ نئی حکومت کی تشکیل میں اگر چند ماہ نہیں تو چند ہفتے تو لگ ہی جائیں گے۔