Saturday, 24 December, 2005, 16:41 GMT 21:41 PST
امریکہ نے مصر میں قائد حزب اختلاف آیمن نور کو دھوکہ دہی کے جرم میں پانچ سال قید کی سزا سنائے جانے کے فیصلے کی مذمت کی ہے۔
نور نے ستمبر میں ہونے والے مصر کے صدارتی انتخاب میں دوسرے نمبر پر ووٹ حاصل کیے تھے۔ ان کو پہلی دفعہ جنوری میں گرفتار کیا گیا تھا۔ ان پر الزام تھا کہ انہوں نے اپنی پارٹی ’گھاد‘ کو رجسٹر کروانے کے لیے جعلی دستخطوں کا سہارا لیا۔
نور کا کہنا ہے کہ ان کے خلاف الزامات سیاسی نوعیت کے ہیں۔ سزا سنائے جانے پر انہوں نے صدر حسنی مبارک کے خلاف نعرے لگائے۔ اس موقع پر ہزاروں لوگ ان کی حمایت کے لیے عدالت کے باہر جمع ہو گئے۔
قاہرہ سے بی بی سی کے نمائندے کا کہنا ہے کہ عدالت کے قریب سڑکیں ’گھاد‘ پارٹی کے حامیوں اور پولیس اہلکاروں سے بھری ہوئی تھیں۔
اس سے قبل نور اپنی حراست کے خلاف بھوک ہڑتال کی وجہ سے ہسپتال میں زیر علاج بھی رہے ہیں۔
امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق نور کے وکیل عامر سلیم کا کہنا ہے کہ ’یہ فیصلہ تاریخ کے کوڑے دان میں پھینک دیا جائے گا۔ یہ ایک سیاسی فیصلہ ہے اور اپیل عدالت اسے ختم کر دے گی‘۔
مقدمہ کے شریک ملزم آیمن اسمٰعیل نے نور کے لیے کاغذات میں جعل سازی کو تسلیم کیا تھا لیکن بعد میں انہوں نے اپنی گواہی واپس لے لی اور کہا کہ یہ اعتراف انہیں ان کے خاندان کے بارے میں دھمکیاں دے کر زبر دستی کروایا گیا تھا۔
ان الزامات کے باوجود نور کو صدارتی انتخاب میں حصہ لینے کی اجازت دی گئی تھی جس میں ان کی جماعت نے دوسری پوزیشن حاصل کی۔ نور نومبر میں اسمبلی میں اپنی نشست ایک حکومتی امیدوار سے ہار گئے تھے۔
اس سال کے آغاز میں امریکہ نے کہا تھا کہ وہ نور کے مقدمے کا جائزہ لے رہا ہے جس سے مصر کی حکومت کے اختلافات برداشت کرنے کی صلاحیت کا پتہ چلے گا۔
اخوان المسلمین کا کہنا ہے کہ انہیں یقین ہے کہ آیمن نور بے گناہ ہیں۔