http://bbc.com.im/urdu/

Friday, 23 December, 2005, 05:24 GMT 10:24 PST

پیٹریاٹ ایکٹ پر صدربش کی ہزیمت

امریکی کانگریس نے امریکی صدر کی خواہش کے برعکس انسداد دہشت گردی قانون پیٹریاٹ ایکٹ میں صرف ایک ماہ کی توسیع کی ہے ۔

صدر جارج بش نے اس قانون کی غیر معینہ مدت کے لیے توسیع کی حمایت کی تھی۔اس قانون کی کچھ شقیں اکتیس دسمبر کو ختم ہونے والی تھیں۔

شہری حقوق کا دفاع کرنے والی تنظیمیں پیٹریاٹ ایکٹ پر شدید تنقید کرتی رہی ہیں کیوں کہ اس کے تحت حکومت کو شہریوں کی تلاشی اور نگرانی کے وسیع اختیارات ہیں۔

نامہ نگاروں کے مطابق ڈیموکریٹ دن بدن پیٹریاٹ ایکٹ کے مخالف ہو رہے ہیں کیونکہ ان کا خیال ہے کہ اس قانون کی آڑ میں لوگوں کی شخصی آزادیوں کو کم کیا جا رہا ہے۔

امریکی کانگریس کی طرف سے اس قانون کو صرف ایک مہینے کی توسیع دینے کا مطلب یہ ہے کہ اب جنوری میں پھر بحث ہو گی۔

امریکی سینٹ نے اس قانون میں چھ مہینے کی توسیع کر دی تھی لیکن گانگریس نے صرف ایک ماہ کی توسیع پر آمادہ ہوئی۔

صدر بش کا موقف ہے کہ یہ قانون دہشت گردی کے خلاف اہم ہتھیار ہے۔

اس قانون کے تحت فون ٹیپ کیے جاسکتے ہیں، ہسپتالوں اور تجارتی اداروں سے دستاویزات حاصل کرنے کے لیے وارنٹ جاری کیے جاسکتے ہیں حتکہ لائبریریوں سے شہریوں کی جانب سے لے جائی جانے والی کتابوں کا ریکارڈ طلب کیا جاسکتا ہے۔