http://bbc.com.im/urdu/

Wednesday, 21 December, 2005, 13:01 GMT 18:01 PST

فلسطینی انتخابات کو خطرہ

فلسطینی انتظامیہ نے کہا ہے کہ اگر اسرائیل نے یروشلم میں فلسطینیوں کو ووٹ ڈالنے کی اجازت نہ دی تو 25 جنوری کو ہونے والے پارلیمانی انتخابات منسوخ کر دیے جائیں گے۔

فلسطینی حکام نے کہا ہے کہ وہ کسی بھی صورت میں فلسطینیوں کو مشرقی بیت المقدس میں ووٹ ڈالنے کی اجازت نہیں دیں گے کیونکہ ان کے بقول اس سے شدت پسند گروہ حماس کو طاقت بڑھانے کا موقع مل سکتا ہے۔

فلسطینی انتظامیہ کے وزیر اطلاعات نبیل شعت نے کہا ہے کہ اگر مشرقی بیت المقدس میں ووٹنگ نہیں ہو گی ’تو سرے سے انتخابات ہی نہیں ہونگے‘۔

یہ انتخابات 1995 میں فلسطینی انتظامیہ کے قیام کے بعد دوسری بار ہو رہے ہیں۔

اسرائیلی وزیراعظم ایریل شیرون کے دفتر ایک ترجمان نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ گزشتہ جنوری میں ہونےوالے فلسطینی انتخابات کے لیے ووٹنگ کی اجازت دی گئی تھی لیکن اس کے بعد سے اسرائیلی حکومت نے اپنا موقف تبدیل کر لیا ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی سے گفتگو سے کرتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ ’ہم کسی صورت میں اس بار مشرقی یروشلم میں فلسطینی انتخابات کے لیے ووٹنگ کی اجازت نہیں دیں گے‘۔

گزشتہ انتخابات کے دوران مشرقی یروشلم میں خصوصی انتظامات کے تحت فلسطینیوں کو ڈاک خانوں میں ووٹ ڈالنے کی اجازت دی گئی تھی۔

اسرائیل مشرقی بیت المقدس پر قبضہ کر کے اسے اپنا خصوصی علاقہ قرار دے چکا ہے جب کہ عالمی قانون کے تحت اب بھی مشرقی بیت المقدس کو اب بھی مقبوضہ علاقہ قرار دیا جاتا ہے۔

اسرئیل نے متنبہ کیا ہے کہ اگر حماس فلسطین کی بالا دست سیاسی جماعت بنی تو وہ جاری امن عمل کو ہی ختم کر دے گا۔