Wednesday, 21 December, 2005, 10:54 GMT 15:54 PST
ایران کے ایٹمی تنازعے پر مذاکرات کی بحالی کے لیے ایران اور یورپی یونین کے تین ملکوں کے نمائندے ویانا میں ملاقات کریں گے۔
امریکہ اور یورپی یونین ایران کو ایٹمی ہتھیار کی تیاری میں استعمال ہونے والا ایندھن بنانے سے باز رکھنا چاہتے ہیں۔
نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ کسی سمجھوتے کی امید بہت کم ہے کیونکہ حالیہ مہینوں میں ایران اور یورپی یونین کے درمیان تعلقات خراب ہوئے ہیں۔
ایران کے صدر محمد احمدی نژاد کی جانب سے اسرائیل مخالف بیانات کے بعد یہ مذاکرات کا پہلا دور ہو گا۔
ایران کے ایٹمی تنازعے پر مذاکرات اگست میں تعطل کا شکار ہو گئے تھے جب ایران نے یورینیم کی افزودگی دوبارہ شروع کرنے کا اعلان کیا۔ ایران کا اصرار تھا کہ یہ اس کا حق ہے کیونکہ وہ ایٹمی توانائی کو پرامن مقاصد کے لیے حاصل کرنا چاہتا ہے۔
اس کے بعد سے کسی بھی سطح پر براہ راست مذاکرات نہیں ہوئے ہیں تاہم صدر احمدی نژاد کی جانب سے اسرائیل کے خلاف سخت بیانات کی ساری دنیا میں مذمت کی گئی ہے۔
ایرانی صدر نے اسرائیل کو ایک ناسور قرار دیا تھا جسے ان کے مطابق دنیا کے چہرے سے ہٹایا جانا ضروری ہے۔ انہوں نے یہ بھی تجویز کیا کہ اسرائیل کو اپنی موجودہ جگہ سے ہٹا کر یورپ میں لے جایا جائے۔
ایران کے بارے میں یورپی یونین کے رویے میں بھی سختی آ رہی ہے اور ایران کے انسانی حقوق کے معاملے کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کے نوبل انعام یافتہ سربراہ محمد البرادی نے کہا ہے کہ ایران کے ایٹمی مسئلے پر دنیا کی برداشت ختم ہو رہی ہے۔