Monday, 19 December, 2005, 09:24 GMT 14:24 PST
افغانستان کے دارالحکومت کابل میں لگ بھگ تین عشروں کے بعد وجود میں آنے والی پارلیمان کا افتتاحی اجلاس پیر کو منعقد ہوا جس میں صدر حامد کرزئی نے اراکین سے حلف لیا۔
افتتاحی اجلاس کے لیے سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے اور اس کے اہم غیرملکی شرکاء میں امریکی نائب صدر ڈِک چینی بھی شامل تھے۔
تقریب میں افغانستان کے سابق صدرِ مملکت ظاہر شاہ کی ایک مختصر تقریر کے بعد صدر حامد کرزئی نے تین سو اکیاون اراکین پارلیمان سے حلف لیا۔
انیس سو تہتر میں ایک بغاوت کے دوران ظاہر شاہ کی حکومت برطرف کردی گئی تھی اور اس کے بعد سے ملک خانہ جنگی اور بیرونی طاقتوں کی مداخلت کا شکار رہا تھا۔
حامد کرزئی نے اراکین پارلیمان سے کہا کہ نئی پارلیمان کا افتتاحی اجلاس ’جمہوریت کی جانب ایک پیش قدمی‘ اور قومی اتحاد کا مظہر ہے۔ انہوں نے کہا: ’اس اجتماع سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ افغانستان کے عوام متحد ہیں۔ جمہوریت کی جانب یہ ایک اہم قدم ہے۔‘
افتتاحی اجلاس کے دوران صدر حامد کرزئی نے نئے اراکین پارلیمان سے کہا کہ افغان عوام کی خواہشات کا احترام کرنا ان کی ذمہ داری ہے۔
پارلیمان میں ایک تہائی اراکین خواتین ہیں۔ پارلیمان کی سب سے کم عمر رکن پچیس سالہ سبرینہ ثاقب ہیں۔ نئی پارلیمان میں سابق طالبان کارکن، اسی کے عشرے میں سرگرم کمیونسٹ سیاست دان اور جنگی سردار شامل ہیں۔
بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ بعض لوگ نئی پارلیمان میں ایسے افراد کی شمولیت پر فکرمند ہیں جو گزشتہ دو عشروں کی خانہ جنگی کے دوران سرگرم تھے۔ موجودہ اسمبلی کے تمام ارکان غیر جماعتی بنیادوں پر ہونے والے انتخابات میں آزاد حیثیت سے کامیاب ہو کر آئے ہیں۔
افتتاحی اجلاس دو گھنٹے جاری رہا۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ آنےوالے دنوں میں سیاسی استحکام اور ملک میں سکیورٹی کے معاملات نئے اراکین کے لیے ایک چیلنج ثابت ہوں گے۔
افغان امور کے ماہر رحیم اللہ یوسفزئی کے مطابق طالبان سمیت کئی افغان دھڑوں نے ستمبر میں ہونے والے انتخابات کا بائیکاٹ کیا تھا جبکہ سابق وزیر اعظم گلبدین حکمت یار کی حزب اسلامی سمیت چند سیاسی جماعتوں کو انتخابات سے دور رکھا گیا۔