Sunday, 18 December, 2005, 08:14 GMT 13:14 PST
سابق امریکی وزیر خارجہ کولن پاول نے کہا ہے کہ جنگِ عراق پر انٹیلیجنس کے بارے میں ان کے مشیروں نے جو کچھ بتایا اور بعد میں جو کچھ سامنے آیا اس پر انہیں گہری مایوسی ہوئی ہے۔
کولن پاول نے کہا کہ انہیں افسوس ہے کہ انٹیلیجنس کے اہلکاروں کے درمیان کئی لوگوں کو جنگِ عراق کے بارے میں انٹیلیجنس کے صحیح ہونے پر شبہہ تھا لیکن یہ بات ان تک نہیں پہنچائی گئی۔
کولن پاول نے امریکہ کے وزیر خارجہ کی حیثیت سے جنگِ عراق کے فیصلے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ بی بی سی کے ساتھ ایک انٹرویو میں انہوں نے یہ بھی کہا کہ عراق میں امریکی افواج کی تعیناتی کی ضرورت کئی سالوں تک رہ سکتی ہے۔
کولن پاول نے یورپی ممالک پر شدید تنقید بھی کی کہ مشتبہ دہشت گردوں کی سی آئی اے کی خفیہ فلائٹ کے ذریعے منتقلی کے بارے میں انہیں کوئی واقفیت نہیں تھی۔
انہوں نے کہا کہ اس طرح کے مشتبہ افراد کو ایسے مقامات پر تفتیش کے لیے لے جانا جہاں وہ امریکی قوانین کے دائرے میں نہیں آتے یورپی ملکوں کے لیے نہ تو نئی بات تھی اور نہ ہی یہ ان سے چھپی ہوئی بات تھی۔
کئی یورپی ممالک نے کہا ہے کہ انہیں معلوم نہیں تھا کہ مشتبہ دہشت گردوں کو لے جانے والی سی آئی اے کی خفیہ پروازیں ان کی سرزمین پر ٹھہری تھیں۔
امریکہ پر الزام لگایا گیا ہے کہ سی آئی اے نے ان مشتبہ افراد پر تفتیش کے دوران تشدد کا استعمال کیا ہوگا جو کہ بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہوگی۔ وزیر خارجہ کونڈولیزا رائس کو اس بارے میں اپنے حالیہ یورپ دورے پر کئی سوالات کے جواب دینے کا دباؤ تھا۔